بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبرپختونخوا کے باشعور عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا،امیرمقام

وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے اعلان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے باشعور عوام نے انتشار کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔

انجینئر امیر مقام (Amir Muqam) نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیح عوام نہیں بلکہ انتشار ہے، 27 ستمبر گزر گیا اور اب 4 اکتوبر کی تاریخ دے دی گئی، لیکن بنیادی سوال آج بھی وہی ہے کہ 14 سال میں خیبرپختونخوا کو کیا دیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا کررہا ہے، مگر صوبائی حکومت کی تمام توانائیاں مارچوں پر مرکوز ہیں۔ دہشت گردی صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی اور خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی واضح ایجنڈا دکھائی نہیں دیتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بات بھی قابلِ سوال ہے کہ آج تک پی ٹی آئی کی کسی ریلی، عوامی اجتماع یا کسی رہنما کو دہشت گردی کے کسی حملے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ عوام جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ماضی میں متعدد مرتبہ خودکش حملوں کا سامنا کرچکے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

مزیدپڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون پر گفتگو

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ دہشت گردی کا درد ان ہزاروں خاندانوں سے پوچھا جائے جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت پولیس پر قبضہ کرنے یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور مسلم لیگ (ن) پولیس کو سیاست میں گھسیٹنے کے خلاف ہے۔

امیر مقام کے مطابق 4 اکتوبر کے اعلان کا واحد مقصد صوبے کو بند رکھنا، عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا اور انہیں مزید سزا دینا معلوم ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کا ایجنڈا عوام کو ریلیف دینا نہیں بلکہ ان کے لیے مزید مسائل اور مشکلات پیدا کرنا دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی انتشاری و فسادی مارچ میں عدم دلچسپی کے باعث 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کردی گئی، اب 4 اکتوبر کے نام پر صوبے کو مزید مفلوج کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔