وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگر طے شدہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر جاتا تو آج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کی نوبت نہ آتی، کیونکہ حکومت میں سے کوئی بھی اس اقدام کا خواہشمند نہیں تھا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ بات چیت کا آغاز بنیادی طور پر دہشت گردی کے نکات پر ہوا تھا، جن میں سے 7 سے 8 نکات پر اتفاق رائے بھی ہو گیا تھا اور اسد قیصر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان تمام امور پر ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اسد قیصر اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر مختلف تھا اور اس مرحلے پر کوئی سیاسی بات نہیں کی گئی تھی۔
محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران چوتھی مرتبہ چھ تبدیلیاں تجویز کی گئیں جنہیں حکومت نے کھلے دل سے تسلیم کیا، لیکن جب سب کچھ طے پا گیا اور تحریر وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی تو انہوں نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو ارسال کر دیا، جس کے نتیجے میں دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 25 اور 26 نومبر کے دھرنے اور دھاوے کے دوران بھی بارہا رابطے کیے گئے، لیکن پی ٹی آئی رہنماؤں کا اصرار تھا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے فون پر بات کرائی جائے۔
وزیر داخلہ کے مطابق جب فون پر بات کرائی گئی تو پارٹی کے اندرعدم اتفاق سامنے آیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ حکم تب مانا جائے گا جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا جائے گا۔ انتظامیہ نے دو گھنٹے طویل انتظار کیا اور اس کے باوجود جب بیان ریکارڈ کرانے کی کوشش کی گئی تو ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ سینیٹ میں آئینی شقوں کے حوالے سے بحث پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے آئین کی ہر شق کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، اور اس عمل میں آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لہذا حکومت کا یہ اقدام مکمل طور پر درست اور آئینی دائرے میں ہے۔









