واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کی صورت میں نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں دنیا کے سب سے بڑے غیر جوہری امریکی بموں میں شمار ہونے والے ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق متعدد امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔ تاہم، ان حملوں کے لیے حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اگر وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ان منصوبوں پر عمل درآمد کرسکتی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے بم کے استعمال کی منظوری دی ہے یا نہیں۔
جس بم کے استعمال پر غور کیا جارہا ہے، اس کا سرکاری نام ایم او اے بی ہے، یہ امریکی اسلحہ خانے کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری تنازع میں اس بم کا پہلی مرتبہ استعمال جنگ میں نمایاں شدت کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، امریکی فوجی منصوبہ بندی سے واقف ذرائع نے اس کی افادیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس بارے میں شکوک موجود ہیں کہ آیا اس بم کا استعمال امریکی صدر کے بیان کردہ تزویراتی مقاصد حاصل کرنے یا جنگ کا رخ تبدیل کرنے میں مؤثر ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں:بیرسٹر گوہر کا بانی پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لا تعلقی کا اظہار
ابھی تک ایران میں اس بم کے استعمال کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے توانائی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان فی الحال امریکی فوجی منصوبہ بندی سے متعلق رپورٹ تک محدود ہے۔









