الیکشن کمیشن(Election Commission) نے اکتوبر 2026 میں چیف سیکریٹری پنجاب کو انتخابات کا ایک مجوزہ شیڈول ارسال کیا تھا، جس میں 14 دسمبر 2026 کو پولنگ کرانے کی تجویز دی گئی تھی۔ مجوزہ شیڈول کے مطابق امیدواروں نے 27 سے 30 اکتوبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے تھے، جبکہ ان کی جانچ پڑتال 2 سے 5 نومبر اور اپیلوں کی سماعت 7 سے 11 نومبر تک ہونا تھی۔
کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 18 نومبر، امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 19 نومبر اور انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کے لیے 20 نومبر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ ریٹرننگ افسران نے 17 دسمبر تک انتخابی نتائج کا اعلان کرنا تھا۔
الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف 20 اگست 2026 کو ہونے والے مشاورتی اجلاس کی بنیاد پر تھا، جس میں صوبائی کابینہ کی کمیٹی نے 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی اس پر اصولی اتفاق کیا تھا۔
تاہم پنجاب حکومت نے 14 اکتوبر کو ایک خط کے ذریعے جواب دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ دسمبر اور جنوری میں شدید دھند، اسموگ اور سخت سردی، جبکہ فروری میں رمضان المبارک کے آغاز کے باعث مجوزہ تاریخیں انتخابات کے انعقاد کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
صوبائی کابینہ نے وزارتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں 3 مرحلوں میں انتخابات کرانے کی تجویز منظور کی ہے، جس کے تحت پولنگ 4 اپریل، 11 اپریل اور 18 اپریل 2027 کو کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں تبدیلی آچُکی: کیا پشاور رنگ روڈ کے اہم ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے؟
پنجاب حکومت نے یہ بھی کہاکہ انتخابی مراحل کے لیے اضلاع کی تقسیم الیکشن کمیشن کے ساتھ الگ اجلاس میں طے کی جاسکتی ہے، تاکہ انتخابی انتظامات، سیکیورٹی، انتظامی نگرانی اور ووٹرز کی پولنگ مراکز تک رسائی کو آسان بنایا جاسکے۔
الیکشن کمیشن نے 15 اکتوبر 2026 کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب حکومت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
الیکشن کمیشن نے یاد دلایا کہ 20 اگست کو انتخابی شیڈول سے متعلق مشاورت مکمل ہوچکی تھی، تاہم اب صوبائی حکومت پہلے سے طے شدہ مدت میں تبدیلی چاہتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی شیڈول فوری طور پر جاری کرنے اور مجوزہ انتخابی پروگرام منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی فہرستیں ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ سال پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 کثرتِ رائے سے منظور کیا تھا۔ اس نئے قانون کے تحت 2022 کا بلدیاتی ایکٹ منسوخ ہوگیا، جس کے باعث الیکشن کمیشن نے دسمبر 2025 میں بلدیاتی انتخابات کے لیے جاری کردہ تیاریوں اور حلقہ بندیوں کا شیڈول واپس لے لیا تھا۔ نئے قانون کے تحت حلقہ بندیوں کا عمل اگست 2026 تک مکمل ہوچکا تھا۔
پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں مرحلہ وار منعقد ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں منتخب ہونے والی بلدیاتی کونسلوں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہوگئی تھی۔
آئین کے آرٹیکل 140-اے اور الیکشنز ایکٹ کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد ضروری تھا، تاہم بلدیاتی قوانین میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث انتخابات نہیں ہوسکے۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی اور کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لیے فوری طور پر شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم حتمی انتخابی شیڈول ابھی جاری نہیں کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے مزید مشاورت یا ممکنہ قانونی اقدامات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔









