بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی: 13 سال بعد پی ٹی آئی حکومت سے دور، کن جماعتوں کو فائدہ اور کن کو نقصان ہوا؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے تقریباً 13 سالہ اقتدار کو بریک لگ گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہونے اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات وفاقی پارلیمان کو ملنے کے بعد ان سیاسی جماعتوں کے لیے بھی اختیارات تک رسائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے جو 2013 سے اقتدار کے ایوانوں سے باہر تھیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان سیاسی جماعتوں کی بھی اقتدار کے ایوانوں میں واپسی ہوئی ہے جن کی صوبے میں سیاسی حیثیت 2013 کے بعد سے مسلسل کمزور ہوتی جارہی تھی۔

حکومتی اور انتظامی امور میں اس تبدیلی سے صوبے میں پی ٹی آئی کی مخالف سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچا ہے، تاہم تمام جماعتیں اس تبدیلی سے یکساں طور پر مستفید نہیں ہوسکیں۔

اس تبدیلی کا براہ راست فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ہوا ہے، جو اس وقت وفاق میں اتحادی ہیں اور مل کر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد گورنر کے ذریعے براہ راست انتظامی کردار پی پی پی کے پاس آ گیا، جس کی اس وقت معطل خیبر پختونخوا اسمبلی میں 4 جنرل نشستیں ہیں۔

دوسری سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے، جسے وفاق میں اپنی حکومتی حیثیت کے باعث صوبے کے معاملات میں اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ جماعت 2013 سے صوبے میں اپوزیشن میں تھی اور اس وقت معطل اسمبلی میں اس کی جنرل نشستوں کی تعداد سات ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی دوسری سیاسی جماعت کو براہ راست فائدہ نہیں ہوا۔

پاکستان پیپلز پارٹی: گورنر کے ذریعے انتظامی اختیارات تک رسائی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا سب سے نمایاں اور براہ راست فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچا ہے، کیونکہ صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق پی پی پی سے ہے۔ نئے انتظامی امور کے تحت صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل ہوئے ہیں، جس سے پیپلز پارٹی کو ایسے صوبے میں انتظامی سطح پر کردار ملا ہے جہاں 2013 سے پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے اور پی پی پی کی پارلیمانی پوزیشن انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔

نئے اختیارات کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی بھی سرگرم ہو گئے ہیں اور اس تبدیلی کو مستقبل کے سیاسی فائدے میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مسلم لیگ (ن): وفاقی حکومت کے ذریعے سیاسی اثرورسوخ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم ہے۔ وفاق میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کے پاس اب خیبرپختونخوا کے انتظامی معاملات میں زیادہ براہ راست کردار ہے، جبکہ گورنر راج کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی وفاقی پارلیمان کو منتقل ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ پھر الجھ گیا، الیکشن کمیشن اور حکومت کے مؤقف میں کیا فرق ہے؟

مسلم لیگ (ن) 2013 کے انتخابات میں صوبے میں پی ٹی آئی کی بڑی حریف جماعتوں میں شامل تھی، لیکن اس کے بعد وہ صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ 2024 کے انتخابات میں بھی پارٹی صوبے میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی۔

جے یو آئی، اے این پی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے لیے کیا مواقع ہیں؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صوبے میں جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی اپوزیشن میں ہیں، جو 2013 سے اقتدار سے دور ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کے لیے کوششیں کررہی ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی اور مذہبی جماعتیں، خصوصاً جے یو آئی اور جماعت اسلامی، خیبر پختونخوا کی سیاست میں طویل عرصے سے موجود ہیں۔

جے یو آئی اور اے این پی، پاکستان تحریک انصاف کی شدید حریف بھی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی سیاست میں اہم تاریخی حیثیت رکھنے کے باوجود یہ تینوں جماعتیں اقتدار سے دور ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد صوبے کی اپوزیشن جماعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودگی میں وہ ان مواقع سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکیں گی، یہ ایک اہم سوال ہے۔

صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد ان جماعتوں کو پی ٹی آئی کی حکمرانی، وفاقی پالیسیوں، امن و امان اور آئینی اختیارات کے معاملے پر اپنا سیاسی مؤقف پیش کرنے اور تنقید کرنے کا موقع ضرور ملا ہے۔

گورنر راج اور ایمرجنسی سے نقصان کس کو ہوا؟

گورنر راج اور ایمرجنسی سے سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوا ہے، جو صوبے میں تقریباً 13 سالہ اقتدار سے محروم ہو گئی ہے۔ وفاق میں اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے لیے خیبرپختونخوا کی حکومت ایک محفوظ پناہ گاہ تھی، جو اب نہیں رہی۔ 2013 سے صوبے میں حکمرانی کرنے والی جماعت کے لیے یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے، اور اب نئے انتظامی سیٹ اپ میں پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر تنقید ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں اس کے ووٹ بینک اور سیاست پر اثر پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج بھی کیا ہے۔

کیا گورنر راج مخالف جماعتوں کی انتخابی واپسی کا راستہ بن سکتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کو طویل عرصے بعد اختیارات تک رسائی ملی ہے، جو انتخابی عمل کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی اقدام کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔

سیاسی ماہرین اور صحافیوں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو پی ٹی آئی کے مقابلے میں حکومت سازی کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی۔

کامران علی پشاور کے نوجوان صحافی ہیں جو سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی معطلی تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا سیاسی دھچکا ہے، تاہم اس سے مستقبل میں پارٹی فائدہ بھی اٹھا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت صوبے میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک موجود ہے۔ ان کے بقول، ’آنے والے وقت میں پی ٹی آئی کے لیے حالات خراب ہوں گے۔‘

کامران علی نے بتایا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کو پی ٹی آئی کی مقبولیت کا اندازہ ہے اور وہ اب اسے کاؤنٹر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

صحافی عارف حیات بھی کامران علی سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں اور ووٹرز کا اعتماد بحال کریں، لیکن شاید یہ اتنا آسان نہ ہو۔