بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یورپ سمیت دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس بند: وجہ کیا بنی؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج پی ایچ پی (PHP) میں سافٹ ویئر کی سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد یورپ سمیت مختلف خطوں میں سرکاری ویب سائٹس اور آن لائن سروسز بند کردی گئیں۔

پی ایچ پی 1990 کی دہائی کے آغاز میں متعارف کرائی گئی تھی اور آج بھی انٹرنیٹ کے بڑے حصے میں استعمال ہوتی ہے۔ ورڈپریس، ڈروپل، جوملا اور میگینٹو سمیت متعدد معروف ویب پلیٹ فارمز اس پروگرامنگ لینگویج پر انحصار کرتے ہیں۔

پی ایچ پی کے ڈویلپرز نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری سافٹ ویئر اپ ڈیٹس جاری کردیں اور تمام صارفین کو ہدایت کی کہ وہ بلا تاخیر اپنے سسٹمز اپ ڈیٹ کریں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ بعض ہیکرز ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں شروع کرچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خامیوں کی تفصیلات اور ان کے حل کی دستیابی کے بعد اے آئی کی مدد سے ان کا فائدہ اٹھانے کے طریقے تلاش کرنا بھی آسان ہوسکتا ہے۔

ڈروپل ایسوسی ایشن کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس کے مطابق گزشتہ 20 برس میں جاری ہونے والے پی ایچ پی کے مختلف ورژنز استعمال کرنے والے سرورز اس مسئلے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خامی کے اثرات انٹرنیٹ کے بڑے حصے تک پھیل سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ انٹیلی جنس ادارے سینسس کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 26 لاکھ میزبان سسٹمز میں سے 15 لاکھ ایسے ورژن استعمال کررہے ہیں جن کے لیے اس وقت کوئی اصلاحی پیچ دستیاب نہیں۔

دنیا بھر کے سائبر سکیورٹی اداروں نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر پی ایچ پی اپ ڈیٹ کریں یا خامیوں کو دور کیے جانے تک اپنی ویب سائٹس آف لائن کردیں۔

نیدرلینڈز کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی ویب سائٹ آف لائن کردی۔ روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل Overheid.nl، ملک کی فٹ بال ایسوسی ایشن KNVB، پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد اسپتالوں کی ویب سائٹس بھی بند کردی گئیں۔

ڈنمارک میں میونسپل آئی ٹی کمپنی کومبٹ نے قومی اسکول کمیونیکیشن پلیٹ فارم سمیت کئی سروسز بند کردیں۔فن لینڈ میں سرکاری آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والے ادارے والٹوری نے بتایا کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر سرکاری عوامی نیٹ ورک سروسز آف لائن کردی گئی ہیں۔

فرانس کی وزارت داخلہ نے بھی اپنی تمام ویب سائٹس کو حفاظتی دیکھ بھال کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے منتظم ادارے نے بھی بعض سسٹمز کو محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ کرنے تک بند رکھنے کی اطلاع دی جبکہ انٹرنیٹ آرکائیو نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس کی سروسز بھی مختصر وقت کے لیے آف لائن رہیں۔

سائبر سکیورٹی کمپنیوں کیلیف اور وِز نے الگ الگ رپورٹس میں بتایا کہ پی ایچ پی کی خامیوں کا پتا مصنوعی ذہانت کی مدد سے لگایا گیا۔

کیلیف کے مطابق اس نے یکم اگست کو ایک بڑے لینگویج ماڈل کی مدد سے ان خامیوں کی نشاندہی کی اور اس کے بعد سے انہیں دور کرنے کے لیے کام جاری رکھا۔

گوگل کی ملکیت سائبر سکیورٹی کمپنی وِز نے بتایا کہ اس کے خود کار اے آئی ٹول وِز اٹلس کے علاوہ گوگل کے جیمنائی 4 آرگن اور اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 5.6 سول نے بھی اس تحقیق میں مدد فراہم کی۔

وِز کے مطابق یہ خامیاں پی ایچ پی کے کوڈ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک چھپی رہیں۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے پہلے ان خامیوں کو تلاش کرنا اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے تیار کرنا انسانوں کے لیے انتہائی پیچیدہ کام ہوتا، لیکن اب اے آئی اس عمل کو تیز اور بڑے پیمانے پر ممکن بنا سکتی ہے۔

ایمیزون کے سکیورٹی سربراہ سی جے موسز نے بدھ کو بتایا کہ کمپنی کی سکیورٹی ٹیم نے 17 اکتوبر کو اپنے ایک آزمائشی نظام پر ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش دیکھی تھی، جو ان کے عوامی انکشاف سے 4 روز پہلے کی بات ہے۔

ان کے مطابق یہ کوشش ایک نامعلوم انٹرنیٹ ایڈریس سے کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملہ آوروں کو خامیوں کی معلومات ان کے باضابطہ اعلان سے پہلے کیسے ملیں۔

ایمیزون کے مطابق بعد ازاں بدھ کو متعدد ہیکرز کی جانب سے مزید کوششیں بھی سامنے آئیں۔ کمپنی نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ان کوششوں میں سے کوئی حقیقی ویب سائٹس کے خلاف کامیاب ہوسکتی تھی یا نہیں، تاہم خامیوں سے اب بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہر کوسٹن رائیو کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی دوڑ جاری ہے جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر موجود کمزور ویب سرورز بڑے پیمانے پر متاثر ہوسکتے ہیں۔

ویب ٹیکنالوجی کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے ڈبلیو تھری ٹیکنالوجیز کے مطابق، جن ویب سائٹس کی پروگرامنگ لینگویج کی شناخت ممکن ہے ان میں سے تقریباً 75 فیصد پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔

کنگز کالج لندن کے محقق لوکاش اولیجنک نے خبردار کیا کہ اے آئی کی مدد سے سائبر حملوں میں اضافے کے باعث غیر محفوظ سرورز کو فوری طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق خطرے کا دائرہ بہت وسیع ہے اور مصنوعی ذہانت حملوں کو انتہائی تیز بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب ورڈپریس ڈاٹ کام چلانے والی کمپنی آٹومیٹک نے کہا کہ اس کے زیر انتظام چلنی والی ویب سائٹس اور ٹمبلر اس خامی سے محفوظ ہیں۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر وزیراعظم کو بریفنگ، اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس

ماہرین کے مطابق انفرادی افراد اور محدود تکنیکی وسائل رکھنے والے اداروں کی چھوٹی ویب سائٹس کو زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے خصوصاً وہ ویب سائٹس جو مشترکہ ہوسٹنگ سروسز پر چلتی ہیں اور جن کے منتظمین بنیادی سرورز کو براہِ راست کنٹرول نہیں کرتے۔