پشاور: وزیراعظم شہباز شریف(Shehbaz Sharif) کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیوں کو سراہا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے، گورنر خیبر پختونخوا
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن، استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں:گیارہویں جماعت کے سالانہ نتائج کا اعلان، طلبا رزلٹ آن لائن چیک کریں
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس نے خیبر پختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے پر زور
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے سے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مسائل کے حل کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ وفاقی حکومت اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون سے امن و استحکام کی کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے وفاقی حکومت کا تعاون اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاق کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے تمام ادارے مشترکہ قومی مقصد کے لیے ایک صفحے پر ہوں تو امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے اور ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔
12 اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق بریفنگ
اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کو خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ان اضلاع کے نام، ایمرجنسی کے نفاذ کی حتمی منظوری یا اس حوالے سے کیے گئے کسی حتمی فیصلے کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
اپیکس کمیٹی کا اجلاس صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومتی ترجیحات کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ اجلاس میں شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عوام کے تحفظ، امن کے قیام اور صوبے کی ترقی کے لیے وفاقی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون جاری رہنا چاہیے۔









