نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 4 اہم مسلم ممالک (آر فور) یعنی پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور بعد ازاں ان ممالک کے 3 اہم یورپی ممالک (ای تھری) یعنی برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشترکہ ملاقات میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان کی دعوت پر استنبول گئے ہیں، جہاں آج پہلے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل گروپ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا۔
اس کے بعد ان چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ ساتوں ممالک کا اس فارمیٹ میں یہ پہلا اجلاس ہوگا۔
یہ اہم ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان اجلاسوں میں آبنائے ہرمز سمیت سعودی عرب کی سیکیورٹی نمایاں موضوعات ہوں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ان اجلاسوں میں خطے میں ہونے والی اہم پیش رفت پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مربوط سفارتی حکمت عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے ترک سفارتی ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ، علاقائی سلامتی اور خطے کے ممالک اور یورپی ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورت حال اور سعودی عرب کی سلامتی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے سفارتی حل پر زور دیے جانے کا امکان ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان علاقائی سلامتی کے معاملات میں خطے کے ممالک کی ذمہ داری اور باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیں گے۔
رائٹرز نے ترک سفارتی ذرائع سے مزید رپورٹ کیا ہے کہ خاقان فیدان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ بھی کریں گے۔
اس کے علاوہ وہ اپنے ہم منصبوں سے یوکرین کی جنگ بحیرہ اسود تک پھیلنے کے خدشات اور اس تنازعے سے پیدا ہونے والے علاقائی سلامتی کے خطرات پر بھی بات کریں گے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد: سی این جی اسٹیشن میں آتشزدگی، 1 شخص جاں بحق، 3 زخمی
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار کی دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی ان اہم اجلاسوں میں شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اس کے عزم کا اظہار ہے۔









