بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیر داخلہ کا اسلام آباد میں مین ہٹن طرز کا نیا شہر آباد کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد میں مین ہٹن طرز کا شہر بسانے، کم سے کم 600 فٹ اونچی عمارتیں بنانے، اور 450 ایکڑ پر مشتمل ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک قائم کرنے کے منصوبوں کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔

لاہور میں پاک سعوعی عرب رئیل اسٹیٹ ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ “ہم اسلام آباد کے اندر ’مین ہیٹن‘ طرز کا ایک شہر بسانے جا رہے ہیں۔ اس شہر کے قوانین، اصول اور ضابطہ کار بالکل مختلف ہوں گے۔ اور یہ شہر بالکل وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع ہوگا۔”

یاد رہے کہ محسن نقوی اس سے قبل بھی اسلام آباد میں ’مین ہٹن اور شنگھائی‘ جیسا شہر بسانے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ 15 اپریل کو انہوں نے کراچی میں دیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”اسلام آباد میں پرائم منسٹر ہاؤس کے پیچھے اور مارگلہ کے پہاڑوں کے ساتھ ایک جگہ ہے، جسے ہم شنگھائی اور مین ہیٹن کے طرز تعمیر کا مکسچر بنا رہے ہیں جہاں بلند و بالا عمارتیں ہوں گی اور وہ ایک نیا شہر بننے جا رہا ہے جہاں بزنس اور سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مواقع ہیں۔“

ان کا یہ بیان وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع محلہ نوری باغ میں تجاوزات کے آپریشن کے دوران سامنے آیا تھا جس میں ہزاروں مکانات پر مشتمل پوری بستی کو غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ نے گزشتہ روز بھی اپنی فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ ”ملپور، بارہ کہو میں 108 کنال اراضی پر قبضہ ہے اور یہ قبضے گزشتہ 30 سالوں سے ہیں، یہاں پر 8 بڑے میوزیم بنانے جا رہے ہیں،جس میں قومی ثقافت ہو گی، انشاءاللہ ہم اسلام آباد کی زمین واگزار کروائیں گے۔“

اسلام آباد کے منصوبوں اور ’وزیراعظم ہاؤس کے بالکل عقب میں واقع‘ رقبے کے بارے میں لاہور میں آج خطاب کے دوران وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ “یہ ایک ہزار ایکڑ پر محیط رقبہ ہے، اور یہ۔۔۔۔بالکل ’مین ہیٹن‘ کی طرز پر ہوگا، جس کے درمیان میں ایک سینٹرل پارک اور ایک جھیل ہوگی، اور اس سینٹرل پارک کے ارد گرد تجارتی اور رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ”ہم اسلام آباد میں ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک بنانے جا رہے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ یہ سفاری پارک تقریباً 450 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہوگا۔“

محسن نقوی نے کہا کہ ”بہت سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں زمین بہت مہنگی ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ وہاں زمین کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں زمین کی قیمتیں بہت زیادہ ہونے کی شکایات درست ہیں، تاہم حکومت ایسے منصوبے متعارف کرانے جا رہی ہے جن سے سرمایہ کاروں کو بڑے پیمانے پر کاروباری مواقع میسر آئیں گے۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ دسمبر میں اسلام آباد میں ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور رہائشی کمپلیکسز کی تعمیر کے لیے بڑے پلاٹس کی نیلامی ہو گی، جس میں سرمایہ کاروں سے زمین کی قیمت وصول کرنے کے بجائے منصوبوں میں حصہ داری کی بنیاد پر پیشکشیں طلب کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا، ”دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں زمین کے لیے کوئی رقم نہیں لی جائے گی۔ ہم کوئی پیسہ نہیں مانگیں گے، بلکہ انوینٹری کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔“

محسن نقوی نے بتایا کہ نیلامی کا آغاز منصوبوں کے 15 فیصد حصے سے کیا جائے گا، جس کے بعد سرمایہ کار اپنی پیشکشیں دیں گے۔ ان کے مطابق 6، 3، 2 اور ایک ایکڑ کے پلاٹس پیش کیے جائیں گے اور ان پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کی کم از کم بلندی 600 فٹ ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے 2 بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ منصوبے کی منظوری کے بعد تین سال میں تعمیر مکمل کرنا ہوگی، جبکہ دوسری شرط عمارتوں کی کم از کم 600 فٹ بلندی ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کو منظوریوں کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) یا دیگر سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ ”آپ کو کسی سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہر کام وزارت داخلہ کے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ہوگا اور یہ کارروائی ہفتوں یا مہینوں کے بجائے دنوں میں مکمل کی جائے گی۔“

محسن نقوی نے منصوبوں میں شفافیت اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق نیلامی کے عمل کی نگرانی کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں قومی احتساب بیورو (نیب)، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور سی ڈی اے کے نمائندے شامل ہوں گے، جبکہ ایک جج کمیٹی کی سربراہی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ان تمام متعلقہ اداروں کو شامل کیا جائے گا جن سے سرمایہ کاروں کو مستقبل میں کسی قسم کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، تاکہ سرمایہ کاری کے عمل شفاف بنایا جا سکے۔

محسن نقوی نے اسلام آباد میں تقریباً 450 ایکڑ رقبے پر ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تفریحی منصوبوں کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری اور سہولتوں کی کمی ہے۔

انہوں نے پنجاب کے ایک سفاری پارک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جانوروں کی تعداد اور افزائش کے انتظامات بہتر بنانے اور تعمیر نو کے بعد اس کی سالانہ نیلامی کی مالیت دو کروڑ روپے سے بڑھ کر 68 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر تفریحی مقامات کو بہتر بنایا جائے تو وہ نہ صرف عوام کو معیاری تفریح فراہم کر سکتے ہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا، ”ہمارے پاکستانی تفریح کے لیے بے تاب ہیں، لیکن ہمارے پاس تفریح کے مواقع بہت کم ہیں۔ چاہے سفاری پارک ہو، انٹرٹینمنٹ پارک ہو یا کوئی اور منصوبہ، اس شعبے میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں رہائشی، تجارتی اور تفریحی منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور حکومت ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سہولت کاری کرے گی۔

مزید پڑھیں:لسبیلہ: وین اور مسافر کوچ میں تصادم، 11 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

خطاب کے آخر میں محسن نقوی نے شرکاء سے کہا کہ ”ہم سب آپ کو اسلام آباد میں دیکھنے کے منتظر ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان شاء اللہ یہ منصوبے پاکستان کو بدل دیں گے۔“