واشنگٹن: ناکام سزائے موت کے بعد زندہ بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک نے کہا ہے کہ ہسپتال سے واپسی کے بعد ان کا جسمانی اور روحی درد اب بھی انتہائی شدید ہے۔
مقدمے کا پس منظر اور خوفناک قتل:
کرسٹا پائیک امریکی تاریخ کی چند معروف ترین خاتون سزائے موت کی قیدیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہیں سال 1995ء میں صرف 18 سال کی عمر میں 19 سالہ کولین سلیمر (Colleen Slemmer) کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ پائیک کو ریاست ٹینیسی کی سزائے موت کی واحد خاتون قیدی کی حیثیت سے دہائیوں سے جیفری ڈیتھ رو جیل میں رکھا گیا تھا۔
ناکام سزائے موت کا خوفناک ڈرامہ:
گزشتہ ماہ عدالت کے احکامات کے تحت کرسٹا پائیک کو زہریلا انجیکشن (Lethal Injection) دے کر سزائے موت دینے کی تیاری کی گئی تھی۔ قانون کے مطابق انہیں پینٹوباربیکل (Pentobarbital) نامی زہریلی دوا کی دو زبردست خوراکیں دی گئیں۔ تاہم، کیمیکل کی اتنی شدید مقدار کے باوجود ان کی موت واقع نہ ہو سکی اور ان کا جسم شدید لرزنے لگا۔
جیل انتظامیہ اور طبی عملے نے جب دیکھا کہ سزائے موت کا عمل بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور قیدی کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے، تو پھانسی کا عمل فوری طور پر روک دیا گیا اور انہیں ایمبولینس کے ذریعے انتہائی نگہداشت کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
زندگی اور موت کی کشمکش اور ہوش میں آمد:
ابتدائی طور پر پائیک کے وکلاء کا کہنا تھا کہ کرسٹا کا جسم زہریلی دوا کے اثر سے بالکل سن ہو چکا تھا، وہ گہرے کوما میں تھیں اور ان کے اعضاء نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ صورتحال اتنی خراب تھی کہ ان کی قانونی ٹیم اور ڈاکٹرز اس بات پر غور کر رہے تھے کہ کیا انہیں لائف سپورٹ سے ہٹا دیا جائے۔
تاہم کئی روز تک ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد، کرسٹا پائیک کو معجزانہ طور پر ہوش آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے لگیں اور اب وہ دوبارہ خود چلنے پھرنے اور بات چیت کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔
ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جیل کے میڈیکل وارڈ کی شدید تنہائی میں منتقل کی جانے والی کرسٹا نے اپنے وکلاء کو ایک خط تحریر کروایا، جس میں انہوں نے اس ناکام پھانسی کے بعد کے حالات انتہائی سادہ اور اثر انگیز الفاظ میں بیان کیے:
جسمانی اور روحی درد: کرسٹا نے لکھا،اس بھیانک رات کے بعد سے میری زندگی کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے درد محسوس نہ کیا ہو۔ میرا پورا جسم دکھتا ہے۔ میرے بازو، میرے ہاتھ اور میرا گلا شدید تکلیف میں ہیں۔ میں اب بھی ٹھیک سے بول نہیں پاتی۔ لیکن یہ درد صرف جسمانی نہیں ہے، بلکہ میری روح اور میرا ذہن شدید ترین کرب سے گزر رہے ہیں۔
جیل کے میڈیکل بلاک میں تنہائی کی زندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تنہائی کا اپنا ایک الگ عذاب ہے، اور وہ اب تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا اور ان کی زندگی بچ جانے کا کیا مقصد ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر کرسٹا پائیک نے ہسپتال کے اس طبی عملے کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کا علاج کیا اور ان کی جان بچائی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان ہزاروں عام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حادثے کے بعد ان کے لیے دعا کی اور ہمدردی کے پیغامات بھیجے۔
انہوں نے لکھا، یہ جاننا کہ اتنے سارے لوگ میری پرواہ کرتے ہیں اور مجھے ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں جس کی زندگی اہم ہے، میرے لیے ایک ایسا احساس ہے جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اس بات نے میرے دل کو گہرائی تک چھو لیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی قوانین کے تحت سزائے موت کا مقصد قیدی کی حیاتیاتی موت (Biological Death) کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ زہریلے انجیکشن کے طریقہ کار میں تین مختلف ادویات یا کیمیکل کی بڑی مقدار (پینٹوباربیکل) جسم میں منتقل کی جاتی ہے۔ اگر پہلی خوراک سے قیدی بے ہوش تو ہو جائے لیکن اس کا دل دھڑکتا رہے، تو قانوناً عملدرآمد کا عمل مکمل نہیں مانا جاتا۔
اگر مقررہ وقت کے اندر قیدی کا سانس اور دل نہ رکے، تو میڈیکل اور جیل گائیڈ لائنز کے تحت جیل عملہ فوری طور پر کیمیکل کی دوسری یا اضافی خوراک (Second Dose) نالیوں کے ذریعے جسم میں منتقل کرنے کا پابند ہوتا ہے تاکہ قانون پر عمل ہو سکے۔
کرسٹا پائیک کے معاملے میں جسمانی پیچیدگیوں، خوف کے باعث رگوں کے سکڑنے يا کیمیکل کے خون میں درست طریقے سے حل نہ ہونے کی وجہ سے پہلی خوراک نے کام نہیں کیا۔ جب پہلی خوراک ناکام ہوئی تو پروٹوکول کے مطابق دوسری خوراک دی گئی، لیکن اس کے باوجود جب جسم نے کیمیکل کو قبول نہ کیا اور دل دھڑکتا رہا تو قانونی طور پر عملدرآمد کو ایمرجنسی میں روک کر قیدی کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
1995ء کے بعد اب تک پھانسی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
امریکہ کے عدالتی نظام میں سزائے موت کے فیصلوں پر عملدرآمد فوری طور پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہوتی ہیں:
طویل قانونی اپیلیں (Appeals Process):
کرسٹا پائیک کو 1995ء میں قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، لیکن امریکی قوانین کے تحت قیدی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے، پھر ہائی کورٹ (Federal Court) اور سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کرے۔ ان تمام قانونی چارہ جوئی، وکیلوں کے دلائل اور اپیلوں کے فیصلے میں کئی سال یا بعض اوقات دہائیاں گزر جاتی ہیں۔
سزائے موت پر عارضی پابندیاں:
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً سزائے موت کے طریقوں (جیسے زہریلے انجیکشن کے کیمیکلز) کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مقدمات درج کیے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے عدالتی حکم پر عملدرآمد روک دیا جاتا ہے۔ جب تمام قانونی راستے ختم ہو جاتے ہیں، تب عدالت ایگزیکیوشن وارنٹ جاری کرتی ہے۔
کیا اسے دوبارہ پھانسی دی جائے گی؟
موجودہ حالت (زندہ یا مردہ):
کرسٹا پائیک اس وقت زندہ ہیں۔ اگرچہ انہیں گزشتہ ماہ زہریلے انجیکشن کے ذریعے پھانسی دینے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن کیمیکل ناکام ہونے اور ان کی حالت خراب ہونے پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ صحتیاب ہو کر واپس جیل کے میڈیکل وارڈ میں منتقل ہو چکی ہیں۔
کیا دوبارہ پھانسی دی جائے گی؟
امریکی قوانین اور عدالتی احکامات کے مطابق چونکہ ان کی سزائے موت کی قانونی سزا تاحال ختم نہیں ہوئی، اس لیے ریاست کی طرف سے مستقبل میں تمام طبی اور قانونی معائنے مکمل ہونے کے بعد دوبارہ پھانسی دیے جانے کا امکان موجود ہے۔ تاہم، اس ناکام واقعے کے بعد ان کے وکلاء نے ایک بار پھر عدالت میں نئی پٹیشنز دائر کر دی ہیں جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک بار ناکام اور تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے بعد دوبارہ سزائے موت دینا انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔









