بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک کیلئے بڑا اعزاز، پاکستانی رکشے اب بیرون ملک بھی چلیں گے

پاکستانی آٹو موبائل کمپنی سَزگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے فلپائن(Philippine) کی مارکیٹ میں قدم رکھتے ہوئے ملک میں تھری وہیلر گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلنگ کا پلانٹ قائم کردیا ہے جو پاکستان سے باہر کمپنی کی پہلی پیداواری تنصیب ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب صوبے لگونا کے شہر بیان میں قائم پلانٹ کا افتتاح فلپائنی صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے جمعے کے روز کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ملک کے صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی جانب اہم پیشرفت ہے۔

فلپائنی صدر کے مطابق پلانٹ میں سالانہ تقریباً 12 ہزار تھری وہیلر گاڑیاں اسمبل کرنے کی صلاحیت ہوگی، جن میں الیکٹرک اور روایتی انجن والے رکشے شامل ہیں۔

منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مجموعی پیداوار کا 60 فیصد الیکٹرک جبکہ 40 فیصد روایتی رکشوں پر مشتمل ہوگا] مارکیٹ میں طلب اور صنعت کی ترقی کے ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کا تناسب مزید بڑھانے کی توقع ہے۔

صدرمارکوس نے بتایا کہ اس منصوبے سے فلپائنی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ بیٹریوں، شیشوں، گاڑیوں کی اندرونی آرائش، ربڑ اور لبریکینٹس سمیت مختلف پرزہ جات کے مقامی سپلائرز کو بھی کاروبار کے مواقع ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ہر گاڑی کی مجموعی مالیت کا کم از کم 25 فیصد حصہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے پرزہ جات اور خدمات سے حاصل ہوگا، کمپنی سے توقع ہے کہ وہ مقامی سطح پر خریداری بڑھائے گی اور مستقبل میں گاڑیوں کے تمام پرزہ جات ملک کے اندر تیار کرنے کی جانب پیشرفت کرے گی۔

فلپائنی صدرکے مطابق یہ پلانٹ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے خطے کے لیے بھی پیداواری مرکز کے طور پر کام کرے گا، سَزگار نے پاکستان سے باہر اپنی پہلی پیداواری تنصیب کے لیے فلپائن کا انتخاب کیا ہے، جہاں سے جنوب مشرقی ایشیا کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کی جاسکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک رکشے بیٹری کی گنجائش کے مطابق ایک بار مکمل چارج ہونے پر 100 سے 210 کلومیٹر تک سفرکرسکیں گے جبکہ انہیں مکمل چارج کرنے میں تقریباً 6 سے 8 گھنٹے لگیں گے۔

صدر مارکوس کا کہنا تھا کہ الیکٹرک رکشوں کے استعمال سے ڈرائیوروں کے ایندھن کے اخراجات کم ہوں گے اور ملک کا درآمدی ایندھن پرانحصار بھی گھٹانے میں مدد ملے گی۔

مزیدپڑھیں:پاکستان نے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر دنیا میں اپنی طاقت منوائی، خواجہ آصف

یہ پلانٹ پاکستانی کمپنی سَزگار اورفلپائنی سرمایہ کاروں کی شراکت داری سے قائم کیا گیا ہے، فلپائنی صدر نے بتایا کہ کمپنی میں فلپائنی سرمایہ کاروں کی ملکیت کا حصہ 60 فیصد ہے۔

فلپائن میں پاکستان کی سفیرعاصمہ ربانی نے بھی اس پیشرفت پر سَزگار کو مبارکباد دی، منیلا میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق سفارت خانے نے کمپنی کو فلپائنی مارکیٹ میں داخل ہونے میں سہولت فراہم کی، جہاں مسافر اور تجارتی استعمال کے تھری وہیلرز کے علاوہ الیکٹرک گاڑیاں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

صدر مارکوس نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری فلپائن کی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے روڈ میپ سے ہم آہنگ ہے، جس کے تحت 2040 تک ملک میں گاڑیوں کے مجموعی بیڑے میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 50 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے سَزگار پر زور دیا کہ وہ مقامی سپلائی چین کو مزید وسعت دے اور فلپائنی مینوفیکچررز کے ساتھ اشتراک کرے، حکومت مقامی پیداوار بڑھانے کی کوششوں میں کمپنی کی معاونت کرے گی۔