پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بازیابی کا معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو ارسال کرتے ہوئے درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔
خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے سہیل آفریدی منظرِ عام پر نہیں ہیں۔ گورنر راج کے نفاذ کے روز بھی ان کے ٹھکانے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، تاہم اگلے روز وفاقی وزیر طلال چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ وہ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان حفاظتی تحویل میں ہیں۔
بعد ازاں سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے 13 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے مسلح اور نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے سہیل آفریدی کی بازیابی، انہیں پیش کرنے، مبینہ واقعے کی تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔
جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے آج سہیل آفریدی کی بازیابی کیلیے دائر درخواست پر سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور درخواست گزار کے وکیل بشیر وزیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو پیش کرنے کا حکم دے۔ گورنر سمیت دیگر حکام میڈیا پر اعتراف کر چکے ہیں کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، لہٰذا آئی جی پولیس کو حکم دیا جائے کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کسی رکن اسمبلی کو اس طرح گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کے تحت اسپیکر کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور نئے اسپیکر کے انتخاب تک موجودہ اسپیکر اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے۔
جسٹس ارشد علی نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنا چاہیے تھا۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ انہیں آج ہی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور جواب جمع کرانے کے لیے مزید تین دن درکار ہیں۔ پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈپٹی کمشنرز سے بھی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ غائب ہیں اور ہوم ڈپارٹمنٹ کو ان کے بارے میں تمام معلومات ہونی چاہییں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے قبل بھی 3 ایم پی او کے تحت سینکڑوں مقدمات ایسے جمع ہوئے جن میں حکومت سے جواب طلب نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا گیا تھا، لیکن عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ مفادِ عامہ کا معاملہ ہے اور اگر حکومت کا یہی رویہ رہا تو کیس لارجر بینچ کو بھیج دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:آئی پی ایل میں شرکت کی خبریں درست نہیں، محمد عامر
عدالت نے نشاندہی کی کہ حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے 10 دن دیے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس چیف جسٹس کو ارسال کرتے ہوئے درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کر دی۔









