خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس نے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک خود کش حملہ آور سمیت 2 دہشت گرد ہلاک کر دیے جبکہ دوسری جانب ضلع ٹانک میں ایک تھانے پر دہشت گردوں کے حملے میں 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔
لکی مروت پولیس کے مطابق گنڈی چوک میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر بڑی کاروائی کی گئی۔ پولیس کے ساتھ مقابلے کے بعد ایک خودکش حملہ آور سمیت 2 دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ دہشت گردوں کا ایک ساتھی فرار ہوگیا۔
یاد رہے کہ لکی مروت کا شمار خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں گزشتہ چند ماہ سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سال یہاں 2 بڑے دھماکے ہوئے جبکہ تازہ واقعہ 27 ستمبر کو پیش آیا جب دہشت گردوں کی فائرنگ میں 3 افراد شہید اور 3 زخمی ہوئے۔
ہلاک دہشت گردوں کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خودکش حملہ آور اور اس کے ساتھی بڑی دہشتگردانہ کارروائی کرنے جا رہے تھے جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ ایمونیشن، بارودی سرنگیں، کالعدم تنظیم کے جھنڈے، کمیونیکیشن آلات اور دیگر ممنوعہ سامان بھی برآمد ہوا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا نے لکی مروت پولیس پارٹی کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا ہے۔
ادھر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لکی مروت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لکی مروت میں دہشت گروں کو کسی صورت دوبارہ پنپنے نہیں دیں گے۔
دوسری جانب ٹانک میں دہشتگردوں نے تھانہ ملازئی پر گزشتہ شب ڈرون حملہ کیا اور شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
گزشتہ روز اسی ضلع سے 4 پولیو ورکرز کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل بھی ٹانک میں پولیس پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں۔ 28 ستمبر کو یہاں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوئے۔
ٹانک پولیس کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حملہ آوروں کے خلاف جوابی فائرنگ کی گئی اور زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:عوام نے تقسیم کے بجائے اتحاد کی سیاست کا پیغام دیا، باراک اوباما
پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں میں محرر ہیڈ کانسٹیبل علی اللہ، کانسٹیبل عدنان اور کانسٹیبل سیف علی شامل ہیں۔پولیس کے کہنا ہے کہ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں اور ان کے سہولتکاروں کی تلاش جاری ہے۔









