بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

یہ منجن اب نہیں چلے گا، آپ کریں گدی گدی ، ہم کریں تو فساد، ہمارے خلاف چلائی جانیوالی ہر مہم کا دوٹوک جواب دیا جائے گا، مصور عباسی

آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) مصور حسین عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اپنے ادارے کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا مہم اور دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ادارہ ایک آزاد میڈیا پلیٹ فارم ہے، جسے صحافتی کام سے روکنے کے لیے دباؤ یا دھمکیاں قبول نہیں۔  جس متنازع ڈرون ویڈیو کی بات کی جا رہی ہے وہ اوپن سورس تھی اوراس کی عکس بندی میں آزاد ڈیجیٹل کا کوئی کردار نہیں تھا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصور حسین عباسی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت، جمعیت علمائے اسلام، کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آزاد ڈیجیٹل کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں ادارے پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور اسے ایسے معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

آزاد ڈیجیٹل ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مصور حسین عباسی نے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل ایک آزاد میڈیا چینل ہے جو دیگر میڈیا ہاؤسز کی طرح اپنے صحافتی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ان کا کہنا تھا کہ صحافت اور تنقید کا حق سب کو حاصل ہے۔ ہر شخص اور سیاسی جماعت کو کسی بھی خبر، رپورٹ یا مؤقف پر اختلاف کرنے اور اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا اختیار ہے، لیکن اختلاف کی آڑ میں کسی میڈیا ادارے کے خلاف غیر اخلاقی مہم چلانا اور دھمکیاں دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل اپنے صحافتی کردار اور ادارتی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

جمعیت علمائے اسلام سے ایسے رویے کی توقع نہیں تھی

مصور حسین عباسی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سوشل میڈیا پر مبینہ مہم کے انداز پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا کارکنان بدتہذیبی کی حدود عبور کر چکے تھے، تاہم اب ان کے بقول یہی طرز عمل جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سے انہیں ایسے رویے کی توقع نہیں تھی، کیونکہ ان کے خیال میں اس جماعت کی تربیت اور سیاسی و اخلاقی پس منظر ایک مختلف نوعیت کا ہے۔

مزیدپڑھیں:فیول سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے لیےگیم چینجر ثابت ہوگی : وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ جس جماعت کی تربیت علمائے کرام کے ہاتھوں ہوئی ہو، اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بداخلاقی اور غیر مناسب زبان کا استعمال مایوس کن ہے۔

ڈرون فوٹیج اوپن سورس تھی، عکس بندی میں آزاد ڈیجیٹل کا کوئی کردار نہیں

پریس کانفرنس میں ڈرون فوٹیج کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے مصور حسین عباسی نے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل نے جو ویڈیو استعمال کی، وہ اوپن سورس مواد تھا اور اس کی عکس بندی ادارے نے نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ ویڈیو مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی استعمال کی گئی، لہٰذا صرف آزاد ڈیجیٹل کو اس بنیاد پر نشانہ بنانا مناسب نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد سے متعلق زیر بحث ویڈیو بھی اوپن سورس تھی اور اس کی تیاری یا فضائی عکس بندی میں آزاد ڈیجیٹل کا کوئی کردار نہیں تھا۔

مصور حسین عباسی نے واضح کیا کہ کسی عوامی طور پر دستیاب ویڈیو کو صحافتی مقصد کے لیے استعمال کرنے اور خود کسی مقام کی ڈرون کے ذریعے عکس بندی کرنے میں فرق ہے، اس لیے دونوں معاملات کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایک فوٹیج کو بنیاد بنا کر دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے

آزاد ڈیجیٹل کے سربراہ نے کہا کہ ایک ڈرون فوٹیج کو بنیاد بنا کر ادارے کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جو صحافتی آزادی اور اختلاف رائے کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو آزاد میڈیا ادارے کے خلاف پروپیگنڈا کرنے یا اسے دباؤ میں لانے کا حق حاصل نہیں۔

ان کے مطابق اختلاف کی صورت میں متعلقہ جماعت کو اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے اور اگر کسی خبر یا ویڈیو پر اعتراض ہے تو اس کا جواب دلیل اور شواہد کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے مبینہ مہم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل اس طرز عمل اور اس کے ذریعے پیش کیے جانے والے بیانیے کو قبول نہیں کرتا۔

سی ای او آزاد ڈیجیٹل نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ  فضل الرحمان کے دہرے معیار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا منجن اب مزید نہیں چلے گا۔ آپ کریں گدی گدی ، ہم کریں تو فساد، ہمارے خلاف چلائی جانیوالی ہر مہم کا دوٹوک جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر کڑا ردِعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اقتدار میں ہوں تو سب کچھ اچھا لگتا ہے اور جیسے ہی اپوزیشن میں جاتے ہیں تو ریاستی اداروں اور شہدا کی قربانیوں پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔

 انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے خلاف چلائی جانے والی ہر طرح کی منفی مہم کا جواب گالی کے بجائے ٹھوس دلائل اور منطق سے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ  فضل الرحمان اور ان کے حامی جس ‘دہرے معیار’ کی پالیسی پر گامزن ہیں، عوام اسے اب مسترد کر چکے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ’آپ خود اقتدار کے تمام تر فائدے سمیٹیں اور جب ہم کوئی جائز سوال اٹھائیں تو اسے فساد کا نام دے دیں، یہ طرزِ عمل اب نہیں چلے گا۔”

افواجِ پاکستان کی قربانیاں اور دہشتگردی پر خاموشی

مصور حسین عباسی نے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے  فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پاک فوج کے جوان ملک کی بقا اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، تو  فضل الرحمان دہشتگردی کے خلاف کھل کر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ ہمارے تعلقات کو ان جگہوں اور اداروں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سے آپ خود پوری زندگی مستفید ہوتے رہے ہیں۔‘

انہوں نے دہرایا کہ ان کا ادارہ اور بیانیہ کسی فردِ واحد یا مخصوص سیاسی جماعت کا ترجمان نہیں ہے، بلکہ ان کی پالیسی صرف اور صرف پاکستان کی سالمیت، بقا، اور پائیدار تعمیر و ترقی کو اجاگر کرنا ہے۔

دینی مدارس، اسلام اور ذاتی سیاست

دینی مدارس اور مذہبی شعائر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصور حسین عباسی نے کہا کہ پاکستان میں مدارس ایک منظم دینی اور تعلیمی نظام کے تحت بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلامی شعائر اور دینی مدارس کو  فضل الرحمان کی ذاتی یا سیاسی مفادات کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ہم خالصتاً پولیٹیکل اور آئینی انداز میں بات کر رہے ہیں جبکہ مدارسِ اسلامیہ کا پاکستان کے تعلیمی اور اخلاقی فریم ورک میں ایک باوقار کردار ہے۔

فضل الرحمان کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاست کو مدارس کے مقدس نام کے پیچھے چھپانے کے بجائے اپنے بیانیے کی ذمہ داری خود قبول کریں۔