سعودی عرب اور شام نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں.
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے شام میں تعمیرِ نو، توانائی، صحت، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد کے رعایتی قرضے فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے
دفاعی تعاون کے معاہدے پر شامی صدر احمد الشرع کے دورہ ریاض کے دوران دستخط کیے گئے، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی۔ دونوں رہنماؤں کی ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ تاہم معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
رائٹرز نے گزشتہ ماہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ شام یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی جنگ کے تناظر میں مملکت کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
اس وقت ایک شامی سفارت کار نے کہا تھا کہ فوجی تعاون یا تجربات کے تبادلے سے متعلق کسی بھی درخواست پر صرف سرکاری ذرائع سے اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو منظم کرنے والے دوطرفہ معاہدوں کے دائرہ کار میں غور کیا جائے گا۔
سعودی فنڈ برائے ترقی نے بدھ کو شام کی وزارت خزانہ کے ساتھ چھ معاہدوں پر دستخط کیے، جن کے تحت شام کے ترقیاتی اور عوامی خدمات کے شعبوں کی معاونت کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد کے رعایتی ترقیاتی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
شام کی وزارت خزانہ کے مطابق ان قرضوں کا مقصد ملک میں ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی عوامی سہولیات کے شعبوں کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی بلدیاتی الیکشن شیڈول اور کمیشن آرڈر ہائیکورٹ میں چیلنج
خیال رہے سعودی عرب شام کو مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، ریاض نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کے عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔








