بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بال ٹیمپرنگ سکینڈل ،عثمان خواجہ نے آسٹریلین ٹیم سے متعلق بڑا دعویٰ کردیا

سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ(Usman Khawaja) کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل سینڈ پیپر گیٹ 2018ء کو پھر زندہ کر دیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

عثمان خواجہ نے 2018ء کے سینڈ پیپر اسکینڈل سے متعلق اہم انکشافات اپنی آٹو بائیو گرافی ’صبر‘ میں کیے ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ کے منصوبے سے آگاہ تھے، میں یہ سب کرنا نہیں چاہتا، میں وہ ایک نہیں بننا چاہتا کہ کوئی آگے آئے اور سچائی بیان کرے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ میں نے سوچا کہ 8 سال بعد سچائی باہر آنی چاہیے، میں نے کہا تھا کہ ہمیں اسے بحیثیت ٹیم لینا چاہیے، ہم نے یہ ٹیم کی حیثیت سے کیا تھا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

 سابق آسٹریلوی کرکٹر نے کہا ہے کہ ہم سب جانتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، ہمیں اس کی ذمے داری ٹیم کی حیثیت سے لینا چاہیے تھی، ایسا نہیں ہوا اور صرف 3 کرکٹرز کو سزا ہو گئی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مزیدپڑھیں:بھارتی کرکٹر محمد شامی کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ان کا کہنا ہے کہ میں کسی وجہ سے اس پر بات نہیں کر رہا لیکن میرا خیال ہے کہ اس پر بات کرنا اچھا ہے، جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ پر گفتگو ہوئی، پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں سینڈ پیپر کو گیند کے لیے مؤثر قرار دیا گیا۔

عثمان خواجہ نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیو اسمتھ نے معاملے سے لاعلم رہنے کا فیصلہ کیا، کیپ ٹاؤن ٹیسٹ سے پہلے بھی بال ٹیمپرنگ ہوتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ ڈیوڈ وارنر، اسٹیو اسمتھ اور کیمرون بینکرافٹ کو بال ٹیمپرنگ پر سزا ہوئی، بال ٹیمپرنگ اسکینڈل سینڈ پیپر گیٹ تیسرے کیپ ٹیسٹ میں پیش آیا تھا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات میں عثمان خواجہ سے کوئی بیان نہیں لیا گیا، پیٹ کمنز سمیت 4 آسٹریلوی بولرز نے بال ٹیمپرنگ سے لاعلمی کا مؤقف اپنایا تھا۔ کمنز، اسٹارک، ہیزل ووڈ اور لائن کا کہنا تھا کہ انہیں سینڈ پیپر استعمال ہونے کا علم نہیں تھا۔

کرکٹ آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ اب تک فراہم کی گئی تمام متعلقہ معلومات کا مناسب طور پر جائزہ لیا گیا ہے، 8 برس میں بہت کچھ کہا، بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں۔