چینی (Chines)موٹر سائیکل ساز کمپنیاں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی طرح یورپی منڈیوں پر چھانے کی تیاری کر رہی ہیں، جہاں ان کی جدید ڈیزائن، طاقتور انجن اور نسبتاً کم قیمت والی موٹر سائیکلیں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
اٹلی کے شہر میلان میں منعقد ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی موٹر سائیکل نمائش’ای آئی سی ایم اے ‘ میں چینی کمپنیوں کے اسٹالز پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں بی ایم ڈبلیو، ہونڈا اور ڈوکاٹی جیسے معروف برانڈز کے شائقین بھی چینی موٹر سائیکلوں کا جائزہ لیتے نظر آئے۔
چین کی کمپنی سی ایف موٹو اس میدان میں نمایاں پیشرفت کر رہی ہے۔ ہانگژو میں قائم یہ کمپنی ابتدائی طور پر آسٹریا کی کمپنی کے ٹی ایم کے لیے انجن تیار کرنے اور موٹر سائیکلیں اسمبل کرنے کے باعث توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، جبکہ 2024 اور 2026 میں موٹو تھری کے 250 سی سی مقابلوں میں 2 چیمپئن شپ جیت کر اپنی صلاحیت بھی منوا چکی ہے۔ چینی کمپنی کی موٹر سائیکلوں کو ان کی قیمتوں کے باعث بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ اطالوی صارفین کا کہنا ہے کہ جاپانی اور یورپی برانڈز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ چینی موٹر سائیکلیں نسبتاً کم قیمت میں اچھی خصوصیات فراہم کر رہی ہیں۔
مزیدپڑھیں:پشاور تا لاہور براہ راست فضائی سروس کا اعلان
یورپی موٹر سائیکل ساز اداروں کی تنظیم (ACEM) کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین، جاپان کے بعد یورپی یونین کو موٹر سائیکلیں فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا، جس کا درآمدات میں حصہ 27.1 فیصد اور فروخت کی مالیت ایک ارب یورو رہی۔ خاص طور پر 250 سی سی سے زیادہ طاقتور موٹر سائیکلوں کی یورپی منڈی میں چینی کمپنیوں کی گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ 2019 میں اس شعبے کی یورپی درآمدات میں چین کا حصہ محض 7 فیصد تھا، جو اب تقریباً ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے۔ سی ایف موٹو کے علاوہ زونٹس، کیو جے موٹر، ووگ اور زیڈ ایکس موٹو جیسی کمپنیاں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ چین کی کمپنی چیان جیانگ نے 2005 میں اطالوی برانڈ بینیلی کو خرید کر اس صنعت میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کی تھی۔
فرانس میں بھی چینی موٹر سائیکلوں کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانسیسی آٹوموٹیو ایسوسی ایشن موبیلیئنز کے مطابق سی ایف موٹو اکتوبر میں فرانسیسی مارکیٹ کا پانچواں بڑا برانڈ بن گیا اور ٹرائمف، سوزوکی، کے ٹی ایم اور یاماہا جیسی معروف کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اسی طرح زونٹس کی فروخت ایک سال میں دوگنا ہو گئی، جبکہ کیو جے موٹر اور ووگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم قیمت، بہتر معیار اور جدید ڈیزائن کا امتزاج چینی کمپنیوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہے، جبکہ یورپی صنعت کار بھی اب انہیں اپنے لیے سنجیدہ مسابقتی خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔








