پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم(Babar Azam) نے کہا ہے کہ سب پوچھ رہے ہیں کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم نوجوان کیوں ہے، ہم نے انگلینڈ میں فیصلہ کرلیا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ جائیں گے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی فرسٹ کلاس کھیل کر آرہے ہیں اور فارم میں ہیں، میری سوچ ہمیشہ مثبت رہتی ہے، بطور سینئر ہمیشہ بہترین پرفارمنس دینے کی کوشش کرتا ہوں۔
بابر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا، بہتری کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے، میں اپنی غلطیوں کے بارے میں سوچتا ہوں، جتنا کھیلوں گا اتنا بہتری کی طرف جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں فرق سب کے سامنے ہے، سات سے آٹھ کھلاڑی نوجوان ہیں، سیلیکٹرز اور کوچ نے ٹیم منتخب کی ہے، جو گزر گیا اس پر بات نہیں کرنی اور غلطی سے سیکھنا ہے، کرکٹ میں کبھی پرفارمنس ہوتی ہے کبھی نہیں، ہر دن ایک جیسی غلطیاں نہیں ہوتیں۔
مزیدپڑھیں:جاپان: 5.7 شدت کا زلزلہ، 20 افراد زخمی
پاکستان ٹیم کے کپتان نے کہا کہ میرے پاس پریکٹس اور محنت ہے، میں مناتا ہوں کہ مجھ سے توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں ہو رہی، دورۂ انگلینڈ میں جو ہوا سب کے سامنے ہے، ہر چیز بتانی ضروری بھی نہیں، سیلیکٹرز اپنا کام کرتے ہیں اور میں اپنا کام کرتا ہوں۔
بابر اعظم نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں میں سیلیکٹرز کے سامنے بات کرتا ہوں، میرے لیے ہر سیریز ضروری ہوتی ہے اور ہر میچ جتوانے کی کوشش کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے فینز میری پرفارمنس کا انتظار کر رہے ہیں، بطور سینئر کھلاڑی اپنے جونیئر کھلاڑیوں کو تجاویز اور مشورے دیتا ہوں، نوجوان کھلاڑیوں کو خود پر اعتماد ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ محمد یوسف لیجنڈ اور پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں، میرا محمد یوسف سے رابطہ نہیں ہوا، مجھ سے جب محمد یوسف رابطہ کریں گے تو ضرور ان سے سیکھوں گا۔








