سابق بیورکریٹ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی تازہ نظم پڑھیئے۔
میری زمیں کے مجاوروں کو کوئی بتائے
کہ وقت ہاتھوں کی مٹھیوں سے اسی طرح پھسل رہا ہے
کہ جیسے ساحل پہ ریت پیروں کے پانیوں سے نکل رہی ہو
کہ جیسے یخ بستہ شب اپنے مہیب دامن میں موت کو لے کر چل رہی ہو
کہ جیسے آنکھوں کی پتلیوں سے ،کہ جیسے انگلیوں کی ساری پوروں سے جان یکدم نکل رہی ہو
میری زمیں کے مجاوروں کو کوئی بتائے کہ لوگ تقسیم ہورہے ہیں
تمام رشتے بھی اور تعلق بھی اپنی توقیر کھو رہے ہیں
انہیں بتائو کہ اب پرندوں کے جھنڈ سارے دیار ہجرت کو چل پڑے ہیں
ہمارے آنگن میں دھوپ ایسی کڑی پڑی ہےکہ اپنے سائے ہی جل گئے ہیں
درخت شاخوں کو ،کھیت پانی کے رس کو جیسے ترس گئے ہیں
ہمار شہروں کی تنگ گلیوں میں جیسے فاقے ہی بس گئے ہیں
انہیں بتائو کہ ساری خلقت دہائی دینے پہ آگئی ہے
سو اس سے پہلے کہ خون ناحق ہماری گلیوں اور محلوں کی نالیوں سے اُبل رہا ہو
او ر اس سے پہلے کہ گھر تمہارا بھی جل رہا ہو
امان لے لو ،امان دے دو
احمد فرارْ نے کہا تھا کہ "نہ ہمارے ملک کے حالات بدلتے ہيں اور نہ ہی ہماری نظميں ڀرانی ہوتی ہيں"۔ کچھ ايسا ہی معاملہ ڀچھلے برس لکھی ميری اس نظم کا ہے۔#FawadHasanFawad #FHFPoetry #UrduPoetry pic.twitter.com/HAtTP3mT89
— Fawad Hasan Fawad (@fawadhasanpk) November 5, 2022









