کراچی (نیوز ڈیسک) ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے سوشل میڈیا کے اس پلیٹ فارم پر جہاں کھلبلی مچ گئی وہیں اس کی پالیسیوں کو لیکر کئی معاملات میں بھی تبدیلیوں، تنقید اور حیران کن اقدامات کی خبریں گرم رہیں۔ امریکا میں 2020ء کے الیکشن کے دوران یہ خبریں بھی گرم رہیں کہ روس امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ان خبروں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ماضی میں جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر بنے تھے تو کئی حلقوں نے روس پر امریکی الیکشن کے نتائج میں ہیرا پھیری یا پھر ہیکنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم، اب ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ 2020ء کے صدارتی الیکشن کے دوران ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف بی آئی نے الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ تازہ ترین دھماکا خیز انکشاف ٹوئٹر کی جانب سے اندرونی دستاویزات اور پلیٹ فارم کی مختلف نوعیت کی رابطہ کاری کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ صحافی میٹ ٹائبی کی جانب سے جاری کی جانے والی ان دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی کے ایک سینئر ایجنٹ نے 2020ء کے امریکی الیکشن کے نتائج پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی اور ٹوئٹر نے وسیع پیمانے پر سینسر شپ کا آپریشن کیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ٹوئٹر کی ان اندرونی دستاویزات کے حوالے سے لوگوں کا رد عمل فی الحال ملا جلا ہے لیکن امرایکی میڈیا نے میٹ ٹائبی کے ان انکشافات سے پیدا ہونے والی گرمی کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر باتیں میڈیا میں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ ایسا رد عمل اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ دنیا کے بڑے با اثر گلوبل سوشل نیٹ ورکس میں سے ایک یعنی ٹوئٹر نے پوری کوشش کی ہے کہ اپنے پلیٹ فارم پر معلومات کو بلاک کیا (روکا) جائے اور اس کے ناقابل تردید ثبوت اب میٹ ٹائبی کے انکشافات میں سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھا جائے تو ٹوئٹر نے خصوصی طور پر عوامی اور نجی سطح پر نیویارک پوسٹ کا ایک آرٹیکل شیئر کرنے کے عمل کو بلاک کر دیا جس میں صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے لیپ ٹاپ کے مواد کے بارے میں باتیں شیئر کی گئی تھیں۔ صدارتی الیکشن سے قبل یہ کام اسلئے کیا گیا کیونکہ اس معلومات کے پھیلنے سے اُس وقت کے صدارتی الیکشن میں امیدوار جو بائیڈن کو نقصان ہوتا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی توانائی کمپنی سے ماہانہ بنیادوں پر 50؍ ہزار ڈالرز وصول کیے اور ان کے کارپوریٹ ایونٹس میں شرکت کی۔ صحافی میٹ ٹائبی کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ معلومات کو بلاک کرنے کا فیصلہ ٹوئٹر پر اعلی ترین عہدوں پر بیٹھے ملازمین نے کیا تھا اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کا براہِ راست صدر بائیڈن کی صدارتی مہم سے تعلق تھا۔ ان ملازمین کی جانب سے یہ فیصلہ اس خوف کی وجہ سے کیا گیا تھا کہ کہیں روس والے لیپ ٹاپ کے مواد کو ہیک نہ کرلیں۔ روس کیخلاف ثبوت نہ ہونے کے باوجود یہ اقدام صرف اندرونی سطح پر پائے جانے والے خوف کی وجہ سے کیا گیا۔ میٹ ٹائبی کے مواد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ٹوئٹر کے لیگل وائس پریزیڈنٹ جم بیکر اس سے پہلے ایف بی آئی کے جنرل کونسل (وکیل) رہ چکے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ جم بیکر ایف بی آئی کی اُس ٹیم کا بھی حصہ تھے جس نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کو روس کے ساتھ جوڑنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی تھی۔ دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹوئٹر کے کئی ملازمین سمجھتے تھے کہ معلومات کو روکنے کیلئے کوئی جواز موجود نہیں تھا۔ انٹرنل کمیونیکیشن میں ایک ملازم کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی بات کو غیر محفوظ سمجھ کر اسے بلاک کرنے کا پالیسی جواز کیا ہے؟ ایک اور سینئر عہدیدار نے رابطہ کاری میں حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ کیا ہم واقعی یہ سمجھیں کہ اب یہ سب ہماری پالیسی کا حصہ ہے؟ تاہم، ان ملازمین کی پریشانیوں اور تحفظات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن بعد میں ٹوئٹر نے جب اس پالیسی کو ختم کیا، اُس وقت تک روس کیخلاف اس قدر پروپیگنڈہ ہو چکا تھا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات رچ بس گئی۔ اب ان تمام باتوں کے بعد، بائیڈن الیکشن جیت کر وائیٹ ہائوس پہنچ چکے ہیں لیکن اب میٹ ٹائبی کے انکشافات کے بعد کئی میڈیا ادارے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہنٹر بائیڈن کے لیپ ٹاپ سے برآمد ہونے والا مواد نہ صرف سچ تھا بلکہ نقصان دہ بھی تھا۔ کسی خبر پر پابندی کے معاملے پر ماتحت ملازمین کے اعتراضات کو نظرانداز کرنے کیلئے جم بیکر کا کردار سب سے اہم تھا۔ میٹ ٹائبی کی جانب سے شائع کی گئی ایک ای میل میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جم بیکر نے تمام ملازمین کو ہدایت کی کہ ’’ہمارے لیے یہ سمجھنے کیلئے ٹھوس جواز موجود ہے کہ معلومات ہیک ہوئی ہوگی۔‘‘ بیکر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ٹھوس جواز کیا تھا۔ جم بیکر کا یہ اعتراف بھی ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ شاید ہنٹر بائیڈن کا لیپ ٹاپ ایسے ہی کہیں پڑا رہ گیا ہوگا یا پھر انہوں نے خود اس کی مرمت کیلئے جس دکاندار کو یہ لیپ ٹاپ دیا وہاں انہوں نے رضامندی کا اظہار کیا ہوگا کہ کچھ مرمتی مقاصد کیلئے لیپ ٹاپ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، ان کا یہ بیان اور ہیک کیے جانے کی سازش تضاد ہے۔ جم بیکر ٹوئٹر پر ریزیڈنٹ رشین ’’ڈس انفارمیشن‘‘ (غلط معلومات پھیلانے والا) ماہر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ انہوں نے جون 2018ء میں ایف بی آر سے علیحدگی اختیار کی لیکن وجہ نہیں بتائی۔
امریکی الیکشن کے نتائج میں ہیرا پھیری، ایف بی آئی افسر ملوث








