اسلام آباد(ممتازنیوز) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) پر اثر انداز ہوکر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کو شہر کی بڑی پارٹی ثابت کرنے کی سازش کی،الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فارم 11 پر جماعت اسلامی کے پولنگ ایجنٹس کو موصول دستخط شدہ نتائج کے مطابق صوبائی دارلحکومت کی سب سے بڑی پارٹی جماعت اسلامی ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ فارم 11 کے نتائج کو سنجیدہ لے کر جماعت اسلامی کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کیا جائے۔
وہ بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی محمد اقبال خان، امیر ضلع نصراللہ رندھاوااور صدر بزنس فورم پاکستان کاشف چودھری بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے، امید ہے پیپلز پارٹی جو اپنے آپ کو جمہوری پارٹی کہتی ہے عوامی فیصلہ کو قبول کرے گی۔ پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پارٹی کی سب سے ذمہ دار شخصیت ہیں انہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کراچی کو کنفیوژن سے نکالیں اور مقامی پیپلز پارٹی کو ہدایات جاری کریں کہ جماعت اسلامی کا مینڈیٹ واپس کیا جائے، امید ہے کہ آصف زرداری ہماری بات سنیں گے اور آئندہ چند گھنٹوں میں یہ ہدایات جاری کردیں گے، کراچی کے عوام کو لمبے عرصے بعد جماعت اسلامی کی صورت میں اہل اور ایمان دار قیادت ملی ہے، ہم ماضی کی طرح ملک کے سب سے بڑے شہر کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ، اسے مزید عدم استحکام سے دوچار کرنا کسی کے فائدے میں نہیں،کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو پذیرائی بخشی اس پر جمعہ کو ملک بھر میں یوم تشکر منائیں گے، اسی روز خود کراچی جاکر عوام کا شکریہ ادا کروں گا، کامیابی پر اللہ تعالی کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور ان کو ٹیم پر مبارکباد، جماعت اسلامی اور عوام کا ساتھ ہمشہ رہے گا۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں ٹرن آؤٹ بہت کم رہا جس کی صورت یہی نکلتی تھی کہ نتائج کا اعلان بہت جلد ہوجاتا مگر نتائج کو تاخیر کا شکار کیا گیا جس سے ابہام پیدا ہوا۔ فارم 11کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار کراچی کی 94یونین کونسلز میں کامیاب ہوئے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں فارم 11کے مطابق سیٹیں دی جائیں، یہ ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کی کامیابی کوئی اچنبھے کی بات نہیں، جب بھی شفاف انتخابات ہوئے کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی پر ہی اعتماد کا اظہار کیا اور اس کے نتیجے میں جماعت اسلامی نے اہلیان کراچی کی خدمت کر کے اعلی کارکردگی کی مثالیں قائم کیں۔ عبدالستار افغانی کو کراچی کے عوام نے دو مرتبہ میئر منتخب کیا، نعمت اللہ خان میئر بنے تو پوری دنیا میں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں نمبر ون میئر کا اعزاز ملا۔ اب کی بار بھی کراچی نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی خدمت کی اور شہر نے انہیں قدر دی۔ کراچی سمیت سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جماعت اسلامی نے طویل جدوجہد کی، بدقسمتی سے نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ بلدیاتی انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکائے اور عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھا۔سراج الحق نے کہا کہ اس وقت پورے ملک کی عوام پریشان اور سسٹم جام ہوا پڑا ہے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی تینوں نے مل کر عوام کو مشکلات سے دوچار کیا۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی، مگر حکمران ٹرائیکا نے پاکستانی قوم کو آٹے کی قطاروں میں کھڑا کر دیا ہے۔ مہینوں سے ایل سی نہیں کھل رہی، نتیجہ کراچی کی بندرگاہ پر ہزاروں کنٹینرز پھنسے پڑے ہیں، تاجر اور کاروباری طبقہ انتہائی پریشانی کا شکار ہے۔ اس ساری صورت حال میں ایک اور عجیب سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ اسمبلی میں نہیں جائے گی اور قوم کو مصنوعی کیفیت میں مبتلا کیا، مگر اب جب انھوں نے اسمبلیوں میں دوبارہ جانے کا اعلان کیا تو سپیکر نے پی ٹی آئی کے 35ممبران اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے، دونوں اطراف کا رویہ قابل مذمت ہے اور غیرسنجیدہ ہے اور اس کا سو فیصد نقصان عوام کو ہو رہا ہے۔ وی آئی پیز کے لیے کوئی پریشانی نہیں، وہ ایکڑوں پر محیط محلات میں مقیم، ان کی اولادیں اور جائدادیں بیرون ملک ہیں، مسئلہ کاشتکار، مزدور، چھوٹے تاجر، بے روزگار نوجوانوں اور عام افراد کا ہے۔ حکمرانوں نے مل کر ملک کو معاشی، سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ کیا۔ ملک کو اس دلدل سے نکالنے کا واحد ذریعہ انتخابات ہیں، مگر الیکشن سے قبل انتخابی ریفارمز ضروری ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے بغیر الیکشن ہوئے تو لوگ پھر دست و گریبان ہوں گے اور نتائج کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔
کراچی میں فارم 11 کے نتائج کو سنجیدہ لے کر جماعت اسلامی کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کیا جائے،سراج الحق








