بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آرٹیکل 370 منسوخ کرنے پر لداخ کے شہری بھارت سے ناراض

مقبوضہ کشمیر کی ریاست لداخ کے شہریوں نے آرٹیکل 370 منسوخ کرنے پر بھارتی حکومت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں میں عسکریت پسندی کے بیج بو کر انہیں دور کیا جا رہا ہے۔

نجی خبررساں ادارےمیں شائع بھارتی نشریاتی ادارے ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرنے کے بعد اب لداخ کے شہری خصوصی حیثیت کی حاصلات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت زمین، ثقافت اور ملازمتوں کے تحفظ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جہاں ایک تعلیمی اصلاح کار اور علاقے کی سب سے مقبول آواز سونم وانگچک کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسی نوجوانوں میں عسکریت پسندی کے بیج بو کر انہیں دور کر رہی ہے۔

دی ہندو اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں سونم وانگچک نے کہا کہ خوف یہ نہیں کہ لوگ بھارت کے خلاف ہو جائیں گے مگر ڈر اس بات کا ہے کہ بھارت کے لیے محبت ختم ہو جائے گی اور یہ ملک لیے خطرناک ہے جس طرح چینی اس کا سامنا کر رہے ہیں۔

سونم وانگچک نے کہا کہ ممبئی اور دہلی کی طرح لداخ کے لوگوں نے بھی جنگ کے دوران بھارتی فوج کو خوراک پہنچانے اور چوکسی کرنے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’چھٹا شیڈول‘ کا جملہ دہرانے پر شہریوں کے خلاف پولیس کارروائی نے اس احساس کو جنم دیا ہے جہاں بائیں، دائیں اور مرکز میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹس درج کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چار دن قبل جب لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ہاکی مقابلے کے بعد لیہہ کے اسٹیڈیم میں تحائف تقسیم کرنے آئے تو ان کو دیکھ کر بچوں نے ’چھٹا شیڈول‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے جس پر انہیں پولیس اسٹیشن لایا گیا، تو کیا اب یہ جملہ کہنا بھی جرم بن گیا ہے۔

سونم وانگچک نے مزید کہا کہ 12 ہزار ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا تھا مگر صرف 8 سو نوکریوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیا گیا۔

سونم وانگچک نے مزید کہا کہ ’چھٹے شیڈول‘ کے بارے میں ایک پیغام پوسٹ کرنے پر ایک صحافی پر بھی مقدمہ درج کیا گیا۔

سونم وانگچک پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئر ہیں جو ایک ماحولیاتی کارکن بھی ہیں جنہوں نے یکم فروری کو لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت شامل کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے پانچ دن کا روزہ ختم کیا جہاں لیہہ میں تقریباً 2 ہزار لوگوں نے ان کے اس غصے کو ختم کرنے کے لیے ریلی میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے تین سال بعد لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن سمیت متعدد سول سوسائٹی گروپز لداخ کو آئینی تحفظ دینے کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پرآئے۔

گزشتہ ماہ دو جنوری کو وزارت امور داخلہ نے لداخ کے لوگوں کے لیے زمین اور ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

سونم وانگچک نے کہا کہ وہ آرٹیکل 370 میں بہتر تھے جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ صنعتیں ان کے وسائل کا استحصال نہیں کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے جموں اور کشمیر اسمبلی میں ہمارے چار اراکین ہوتے تھے مگر اب نمائندگی نہیں ہے جبکہ ایک غیرمقامی لیفٹیننٹ گورنر کو ہم پر حکومت کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص تمام فیصلے کرتا ہے اور لداخ کے لیے مختص 6 ہزار کروڑ میں سے 90 فیصد ایک غیر منتخب شخص کے ہاتھوں میں ہے۔

سونم وانگچک نے کہا کہ چھٹا شیڈول 2019 کے عام انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں شامل تھا۔