بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کاکڑکا عبوری جمہوری سیٹ اپ کابیان حیران کن

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد ملکی سیاست کی رت بدلتی نظر آ رہی ہے ، انتخابات کے التوا سے متعلق تمام خدشات اور افوائیں دم توڑنے لگی ہیں ،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ بھی متحرک ہیں ،لاہورمیں پنجاب حکومت سے ملاقات کے بعد بروقت و شفاف انتخابات کروانے کے عزم کا اظہار اس بات کا غماز ہے کہ صوبوں کے نگران سیٹ اپ بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ،اس لیے اب انتخابات کے ممکنہ التوا کے حوالے سے ہونے والی چہ مگوئیاں بھی ختم ہونی چاہئیں تاہم نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے جانب سے مبینہ طورپر اپنی حکومت کو عبوری جمہوریت قرار دینا درست نہیں،نگران سیٹ اپ کسی صورت میں بھی عبوری جمہوری سیٹ اپ قرار نہیں دیا جاسکتا ،جمہوری یا عبوری جمہوری سیٹ اپ وہی ہوتا ہے جسے جمہور منتخب کرتا ہے اس لیے آئین میں بھی نگران حکومت کو عبوری جمہوری سیٹ اپ قرار دینے کی کوئی گنجائش نہیں ،دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی توپوں کا رخ محض چند ماہ قبل تک اقتدار میں ساتھ رہنے والی جماعت مسلم لیگ ن کی جانب موڑ رکھا ہے جو کہ کسی صور ت بھی درست نہیں ،1990سے2018تک اگر پنجاب کی بات کریں تو پنجاب میں مینڈیٹ مسلم لیگ ن کی جھولی میں ڈال دیا اور پیپلز پارٹی کی قیادت ان تمام انتخابات کا ڈیٹا نکال کے دیکھ لے انہیں کبھی بھی پنجاب میں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے مقابلے میں عوامی پذیرائی نہیں مل سکی ،گوکہ2018کے انتخابا ت میں مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا اور آزاد امیدواروں کے جوڑ توڑ سے پنجاب حکومت پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالے گی ،سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے تو پیپلز پارٹی کو چیلنج دے دیا کہ جتنا بڑا جلسہ مسلم لیگ ن نے مینار پاکستان پر21اکتوبر کو کیا اتنا بڑا جلسہ پیپلز پارٹی کر لے تو ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے جائینگے ،دونوں جماعتوں کے درمیان لفظی گولہ باری جا رہی ہے ،دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت پر چلیں تو بہتر ہوگا شایدآنے والے وقت میں پھر وہ مخلوط اقتدار کا کہیں حصہ نہ ہو ،ویسے بھی پی ڈی ایم کے سولہ ماہ کی حکومت کے اچھے یا برے کام پی ڈی ایم میں شامل ساری جماعتوں کی کارکردگی میں شمار ہوتے ہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خارجہ کی پرفارمنس تو بہت اچھی قرار دی جائے اور ساری برائیوں کا ملبہ وزیر اعظم کے سر ڈالا جائے ،اگر وزیر خارجہ کی کارکردگی بہت اچھی تھی تو یقینا ًاس کا سہرا اس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف کے سر بھی جاتا ہے ۔سیاست میں تلخی نیگ شگون نہیں ویسے بھی ان حالات میں ملکی سیاسی جماعتوں کو ایک میثاق خوش اخلاقی بھی دستخط کرنا چاہیے ۔