اسلام آباد:ٹاک شو کے دوران آئی ایم ایف وفد کی آمد اور ملکی معاشی صورتحال پر بحث کے دوران تحریکِ انصاف کے رہنما علی عمران اور سینئر صحافی طارق سمیر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ اور شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔
تفصیلات کے مطابق اینکر پرسن نے آئی ایم ایف وفد کی 23 ستمبر کو پاکستان آمد اور دو ہفتے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما علی عمران سے سوال کیا کہ کیا ملکی سالمیت کی خاطر وہ ایک قدم پیچھے ہٹیں گے؟ اس پر علی عمران نے واضح کیا کہ ملکی سالمیت قرضوں سے منسلک نہیں ہوتی اور دشمن کے خلاف پی ٹی آئی ہراول دستہ ہوگی، تاہم موجودہ حکومت نے قرضے لے کر کرپشن کی اور چینی کی برآمد پر سبسڈی وصول کرنے کے بعد اسے دوبارہ امپورٹ کر کے 500 ملین سے ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
بحث کے دوران پی ٹی آئی رہنما نے صحافی طارق سمیر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں “نون لیگ کا نمائندہ” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ کچھ دانشوروں کو حکومت کی کرپشن، مہنگائی اور لاقانونیت نظر نہیں آتی۔
اس پر اینکر کے مداخلت کرنے کے باوجود طارق سمیر نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی پارٹی کے تنخواہ دار یا نوکر نہیں بلکہ اپنے دفتر کی نوکری کرتے ہیں۔ انہوں نے علی عمران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما خود پارٹی سے تنخواہ لے کر ترجمانی کرتے ہیں، اسٹوڈیو سے باہر نہیں نکلتے اور گرفتاری کے ڈر سے ہائی کورٹ بھی نہیں جاتے۔
صحافی طارق سمیر نے پی ٹی آئی کو احتجاج کے طریقے پیپلز پارٹی، نون لیگ اور ایم آر ڈی (MRD) کی تاریخ سے سیکھنے کا مشورہ دیا اور سوال اٹھایا کہ کارکنوں کے لیے جمع کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز کون کھا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ جب عمران خان کی مقبولیت نہیں تھی اور کوئی ان سے ملنے نہیں جاتا تھا، تب انہوں نے ان کی کوریج کی اور چندے دیے، جبکہ آج بیرونِ ملک سے آ کر ان کی نمائندگی کی جا رہی ہے۔
سخت گرما گرمی اور ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کے بعد اینکر پرسن نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں کا موقف سامنے آنے پر بحث کو آگے بڑھایا اور اگلے مہمان کا رخ کیا۔









