اسلام آباد(طارق محمود سمیر)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰٓ کی سربراہی میں قائم 5رکنی بینچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت شروع کر دی ہے اور کیس کے فیصلے تک نیب عدالتوں کو کیسز کے حتمی فیصلے کرنے سے روک دیا ہے ۔ سماعت کے دوران ججز نے وکلاء سے بعض اہم سوالات کئے اور حکومتی وکیل مخدوم علی خان کے بیرون ملک ہونے کے باعث اپیل کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ۔ سماعت کے دوران سب سے اہم سوال چیف جسٹس کی طرف سے پوچھا گیا کہ کیا نیب کی تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیاہے تو معاون وکیل سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ پہلی اور دوسری ترامیم کے کچھ شقیں کالعدم قرار دی گئی ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے کہاکہ 25مئی کو نیب قانون میں تیسری ترمیم بھی ہوئی تھی ، تیسری ترمیم کا اثر عدالتی فیصلے سے یہ ترمیم غیر فعال ہو چکی ہے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیسری ترمیم کا جائزہ لئے بغیر پہلے دو کیسے کالعدم ہو سکتی ہیں اس پر چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت نے ترامیم کالعدم قرار دینی تھیں توتینوں کو کالعدم قرار دیتی ، تیسری ترمیم مئی میں آئی اس کے بعد 6 سماعتیں ہوئیں تینوں ترامیم کا آپس میں برائے راست تعلق ہے ۔چیف جسٹس نے مزید کہاکہ نیب ترامیم کا اقلیتی فیصلہ آچکا ہے ، اپیل میں وفاقی حکومت نے ایک نکتہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اٹھایا ہے ، چیف جسٹس نے نیب عدالتوں کو کیس کے حتمی فیصلے کرنے سے روکتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔ نیب ترامیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اورجسٹس اعجازالاحسن نے دو ایک سے کیا تھا ، جسٹس منصور علی شاہ کا بڑا موثر اختلافی نوٹ سامنے آچکا ہے ۔ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون سازی کے حق کو تسلیم کر چکا ہے لہذا نیب ترامیم کو چیلنج کرنے کا یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اگر یہ پانچ رکنی بینچ سابق چیف جسٹس کے کئے گئے فیصلے کو منسوخ کر دیتا ہے تو نیب کے وہ تمام مقدمات جو نیب عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں وہ واپس ہو جائیں گے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار کو تسلیم کر لیا جائے گا تاہم اس حوالے سے عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ سب کے لئے قابل قبول ہو گا ۔ دوسری جانب سیاسی مفاہمت کے لئے جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے جاری ہیں وہیں حکومتی وزراء کے بھی سیاسی رہنمائوں سے رابطے ہو رہے ہیں اور نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر سلیم مانڈوی والا سے بھی ملاقات کی ہے جس میں سیاسی صورتحال اور آئندہ الیکشن کے امور پر بات چیت ہوئی ۔ مرتضیٰ سولنگی اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن سے تحریک انصاف کے ایک وفد کی ملاقات ان دنوں موضوع بحث ہے اور آئندہ چند روز میں میاں نوازشریف سے مولانا فضل الرحمن ، آصف زرداری اور دیگر رہنمائوں کی ملاقاتیں متوقع ہیں ۔علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کا رائے ونڈ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ہے جس کی صدارت میاں نوازشریف نے کی اوراس اجلاس میں ن لیگ نے پہلی مرتبہ کھل کر فوری الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے جو بڑی خوش آئند بات ہے ۔ ن لیگ میاں نوازشریف کی وطن واپسی سے قبل الیکشن کے معاملے میں کچھ کنفوعن کا شکار تھی تاہم 21اکتوبر کو مینار پاکستان پر تاریخی اور کامیاب جلسے کے بعد ن لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اورمیاں نوازشریف نے سیاسی اور قومی مفاہمت کی بات کر کے ایک اچھی ابتداء کی ہے ۔مسلم لیگ ن کے رہنما ء سینیٹر عرفان صدیقی کو میاں نوازشریف نے پارٹی رہنمائوں سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا ہے ۔عرفان صدیقی کویہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے اورنوازشریف نے یہ ٹاسک دیا ہے کہ یہ منشور عوامی مسائل اور دور جدید کے قانون کے مطابق ہونا چاہئے اس میں انصاف کے نظام میں اہم اور بنیادی اصلاحات تجویز کی جائیں تاکہ عوام کو سستا ، فوری اور بے لاگ انصاف مل سکے جبکہ مہنگائی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی کے لئے بھی منشور میں اہم تجاویز دی جائیں گی۔ عرفان صدیقی کو یہ اہم ذمہ داری ملنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میاں نوازشریف عرفان صدیقی پر بہت ا عتماد کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ 21اکتوبر کو مینار پاکستان میں میاں نوازشریف نے جو تقریر کی تھی اس کی تیاری اور لکھنے میں عرفان صدیقی کا بنیادی کردار تھا اور عرفان صدیقی اس مقصد کے لئے پہلے لندن اور بعد ازاں دبئی بھی گئے تھے اور امید پاکستان خصوصی پرواز میں نوازشریف کے ہمراہ وطن واپس آئے۔
نیب عدالتوں کو فیصلوں سے روکنا سپریم کورٹ کا واضح اشارہ







