اسلام آباد پولیس نے عدالتِ عالیہ کے حکم کی روشنی میں 50 بلوچ خواتین کو رہا کر دیا ہے۔
بلوچ سماجی کارکن سائرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ رہائی پانے کے بعد خواتین ابھی بھی اسلام آباد میں ہی ہیں اور ہفتے کو دوبارہ نیشنل پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی کمیپ بھی لگائیں گی۔
رہائی پانے والی خواتین میں بلوچوں کے تحفظ کی سرگرم کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’نگراں وزیراعظم پاکستان اور وزارتی کمیشن کی ہدایات پر 162 گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ضمانتیں ایپکس لاء ایسوسی ایٹس نے رضاکارانہ طور پر دائر کی ہیں۔ 162 افراد کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
نگران وزیراعظم پاکستان اور وزارتی کمیشن کی ہدایات پر 162 گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت دائر کردی گئی۔
ایپکس لاء ایسوسی ایٹس نے رضاکارانہ طور پر ضمانتیں دائر کی ہیں۔
162 افراد کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔#ICTP
— Islamabad Police (@ICT_Police) December 23, 2023
سائرہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تھانے کے اندر بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تشدد کرنے والوں میں مرد پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
بی بی سی کے مطابق سائرہ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ پولیس حکام انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر آپ لوگ واپس نہ گئے تو آپ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
بی بی سی کے مطابق جمعرات کی شب اسلام آباد پولیس کی جانب سے دو بڑی گاڑیاں ویمن پولیس اسٹیشن بھجوائی گئیں، جہاں پر قید خواتین اور بچوں کو زبردستی ان گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بلوچستان بھیجنے کی کوشش کی گئی لیکن مظاہرین نے بسوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔
ان مظاہرین میں سائرہ بلوچ بھی شامل تھیں، جنہیں ویمن پولیس اسٹیشن میں بند کیا گیا تھا۔
سائرہ بلوچ کے الزامات پر اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مظاہرین پر کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا اور بعض افراد منفی پراپیگنڈہ اور سستی شہرت کے لیے جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔
Spokesperson
Islamabad Capital PoliceThere is an organised false information campaign launched against ICT Police.
No women or children were subjected to any mal-treatment at any time during Baloch Yakjehti March on 21-22 of December.
None of them was harmed at any place.…
— Islamabad Police (@ICT_Police) December 22, 2023
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق مظاہرین کو پولیس نے اپنی حفاظت میں ان کی مرضی کے مقام پر روانہ کیا۔
مظاہرین کو اسلام آباد پولیس نے اپنی حفاظت میں ان کی مرضی کے مقام پر روانہ کیا۔
کسی پر کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔
بعض افراد منفی پراپیگنڈہ اور سستی شہرت کےلیے جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔
امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے
عوام سے گذارش ہے کہ جھوٹی خبروں پر کان مت دھریں۔…
— Islamabad Police (@ICT_Police) December 21, 2023
خیال رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو اسلام آباد پولیس کے سربراہ اکبر ناصر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے پاس کوئی بھی خاتون قید میں نہیں اور سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔








