بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دبئی میٹرو گولڈ لائن: آر ٹی اے نے ٹھیکیداروں کے لیے بولی کی آخری تاریخ 9 اکتوبر تک بڑھا دی

دبئی میٹرو کے دائرہ کار اور نیٹ ورک میں تاریخی توسیع کے حامل میگا پروجیکٹ گولڈ لائن کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے بین الاقوامی اور مقامی تعمیراتی کمپنیوں کے لیے بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے۔

دبئی کے جدید مواصلاتی نظام کو مزید وسعت دینے والے اس اربوں ڈالر کے منصوبے کے لیے پری کوالیفکیشن بیانات جمع کرانے کی نئی اور حتمی تاریخ اب 9 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تعمیراتی شعبے کے بڑے اداروں کو اپنی درخواستیں اور تکنیکی دستاویزات مکمل کرنے کا اضافی وقت مل گیا ہے۔

اس سے قبل آر ٹی اے کی جانب سے پری کوالیفکیشن بیانات جمع کرانے کے لیے ابتدائی طور پر 17 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، جسے بعد میں کمپنیوں کی سہولت اور منصوبے کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 7 ستمبر تک بڑھایا گیا۔ تاہم، دنیا بھر کی معروف تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی غیر معمولی دلچسپی اور بولی کے عمل کو شفاف و جامع بنانے کے لیے اتھارٹی نے اس تاریخ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 9 اکتوبر تک توسیع دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ آر ٹی اے نے رواں برس جون میں پری کوالیفکیشن کا باضابطہ نوٹس جاری کیا تھا، جس سے قبل مئی میں تمام دلچسپی رکھنے والے کنٹریکٹرز سے اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اس نوٹس کے جاری ہوتے ہی عالمی تعمیراتی مارکیٹ میں ایک زبردست مقابلے کا فضا قائم ہو چکی ہے کیونکہ یہ پروجیکٹ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے پرکشش اور بھاری مالیاتی حجم رکھنے والا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔

اندازوں کے مطابق دبئی میٹرو کی گولڈ لائن کی کل تعمیراتی لاگت تقریباً 9.2 بلین امریکی ڈالر (34 بلین متحدہ عرب امارات درہم) ہے، جس کا باضابطہ اعلان رواں برس اپریل میں دبئی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کی مکمل تکمیل سے موجودہ دبئی میٹرو کے نیٹ ورک کی کل لمبائی میں 35 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ حکومتی پروگرام اور متعین کردہ ٹائم لائنز کے مطابق، گولڈ لائن ستمبر 2032 تک مکمل طور پر فعال کر دی جائے گی۔ اپنی تکمیل پر یہ روٹ 42 کلومیٹر سے زائد طویل ٹریک پر مشتمل ہوگا جس کے ساتھ 18 جدید ترین میٹرو اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جو دبئی کی مختلف شہراؤں اور اندرونی علاقوں کو باہم منسلک کریں گے۔

موجودہ دبئی میٹرو کی ریڈ اور گرین لائنز کے برعکس، جن کا بڑا حصہ بلند بالا پلوں (ایلیویٹڈ ٹریکس) پر قائم ہے، نئی گولڈ لائن ایک مکمل طور پر زیرِ زمین (انڈر گراؤنڈ) نیٹ ورک کے طور پر ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ زیرِ زمین روٹ دبئی کے 15 انتہائی گنجان اور کلیدی تجارتی و رہائشی علاقوں سے گزرے گا، جس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 15 لاکھ (1.5 ملین) شہری، تاجر اور سیاح مستفید ہو سکیں گے۔ یہ لائن قدیم اور تاریخی علاقے بر دبئی سے اپنی سروسز کا آغاز کرے گی اور شہر کے جدید و سرسبز مضافاتی علاقے جمیرا گولف اسٹیٹس پر جا کر اختتام پذیر ہوگی۔ سفری سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ، یہ زیرِ زمین میٹرو لائن فی الوقت دبئی میں زیرِ تعمیر 55 سے زائد بڑے اور اہم رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کو براہِ راست مواصلاتی رابطہ اور کنیکٹوٹی فراہم کرے گی، جس سے شہر کے معاشی اور تجارتی شعبے کو زبردست تقویت ملے گی۔

دبءی ریلوے02

ٹینڈر کے عمل کے اختتام پر جو بھی معاہدہ کار یا کنسورشیم اس عظیم الشان منصوبے کو جیتنے میں کامیاب ہوگا، اس پر انتہائی بھاری آپریشنل ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔ کامیاب ٹھیکیدار پروجیکٹ کے تمام سول ورکس، الیکٹرو مکینیکل آلات کی تنصیب، جدید رولنگ اسٹاک (ٹرین بوگیاں) اور ریل سسٹمز کی انجینئرنگ، ڈیزائن اور تعمیراتی نگرانی کا مکمل پابند ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاہدے کی شرائط کے تحت منتخب کردہ تمام تعمیراتی کمپنیوں کو میٹرو کا تجارتی آپریشن شروع ہونے کے بعد ابتدائی تین سالہ مدت کے دوران پورے سسٹم کی دیکھ بھال، تکتیکی معاونت اور آپریشنل امور کی بلا تعطل انجام دہی میں آر ٹی اے کی مدد کرنا ہوگی۔

اس میگا پروجیکٹ کو اعلیٰ عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اکتوبر 2025 میں معروف امریکی انجینئرنگ اور مشاورت دہندہ فرم Aecom کو گولڈ لائن پروجیکٹ پر بنیادی کنسلٹنسی خدمات فراہم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ پروجیکٹ کی تکنیکی ساخت کو کل 5 اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ کنسیپٹ ڈیزائن (مفہوم و خاکہ) کی تیاری سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ ابتدائی تکنیکی ڈیزائن کی تشکیل پر احاطہ کرتا ہے۔ منصوبے کے تیسرے مرحلے میں ٹینڈر کی جامع دستاویزات اور قانونی لوازمات مکمل کیے جاتے ہیں۔ بولی کا عمل مکمل ہونے پر چوتھے مرحلے کے تحت براہِ راست تعمیراتی کام کی نگرانی شروع کی جائے گی، جبکہ پانچواں اور آخری مرحلہ نقائص کی نشاندہی اور آپریشنل ذمہ داریوں کی مدت (ڈیفیکٹس اینڈ لائیبلٹی پیریڈ) پر محیط ہوگا تاکہ منصوبے کو سو فیصد محفوظ اور پائیدار بنیادوں پر عوام کے لیے پیش کیا جا سکے۔