جاپان دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے 2017 میں باقاعدہ اپنی “بنیادی ہائیڈروجن حکمتِ عملی” (Basic Hydrogen Strategy) کا اعلان کیا اور ملک کو ایک مکمل ہائیڈروجن سوسائٹی میں ڈھالنے کا ہدف مقرر کیا گرین انرجی کے اس قومی اقدام کا بنیادی محور ٹرانسپورٹیشن (نقل و حمل) کا شعبہ ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزیل پر چلنے والی گاڑیوں، بسوں، بحری جہازوں اور ٹرینوں کو صاف ستھری ہائیڈروجن توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری اس وقت ایک بڑے تبدیلی کے موڑ پر کھڑی ہے، جہاں تجارتی مقابلے کے ساتھ ساتھ ماحول کو کاربن سے پاک کرنے (Decarbonization) کے عالمی مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے کل اخراج کا 2.1 فیصد حصہ بین الاقوامی شپنگ کا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے 2050 تک بین الاقوامی شپنگ سیکٹر کو صفر اخراج پر لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ضمن میں جاپان نے ہائیڈروجن کو ایک پاکیزہ اور حتمی کلین انرجی سورس کے طور پر اپناتے ہوئے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ہائیڈروجن سے چلنے والے نئے دور کے جہازوں کی تیاری کا آغاز کر دیا ہے۔
جاپان نے ملک بھر میں ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے 150 سے زائد ہائیڈروجن ری فیولنگ اسٹیشنز کا جال بچھا دیا ہے، جس میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے تاکہ عوام کے لیے ان گاڑیوں کا استعمال آسان بنایا جا سکے۔ تویوٹا (Mirai) اور ہونڈا جیسی معروف جاپانی آٹو موبائل کمپنیوں نے ایسی تجارتی اور مسافر گاڑیاں متعارف کرائی ہیں جو صرف پانی کے بخارات (Water Vapor) کا اخراج کرتی ہیں اور نقصان دہ کاربن گیسیں بالکل پیدا نہیں کرتی ہیں۔ ٹوکیو اور دیگر بڑے شہروں میں ہائیڈروجن پر چلنے والی بسیں، ڈلیوری ٹرک اور فیول سیل ٹیکسیاں کامیابی سے چلائی جا رہی ہیں، تاکہ شہری ٹرانسپورٹ کو صفر اخراج (Zero-Emission) پر لایا جا سکے۔

جاپانی حکومت گرین انوویشن فنڈ (GI Fund) کے تحت کاواساکی ہیوی انڈسٹریز (Kawasaki Heavy Industries) اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر دنیا کے پہلے ہائیڈروجن فیول انجن والے بڑے تجارتی بحری جہاز تیار کر رہی ہے تاکہ عالمی سمندری ٹرانسپورٹ کو کاربن سے پاک کیا جا سکے۔ جاپان کے پاس ہائیڈروجن کی ملکی پیداوار کے محدود وسائل ہیں، لہذا اس نے آسٹریلیا، برونائی اور دیگر ممالک کے ساتھ عالمی شراکت داری قائم کی ہے تاکہ مائع ہائیڈروجن (Liquefied Hydrogen) کو بڑے بحری جہازوں کے ذریعے جاپان منتقل کیا جا سکے۔ جاپان کے اس انقلابی اقدام کا مقصد 2030 تک ہائیڈروجن کی سالانہ سپلائی میں نمایاں اضافہ کرنا اور 2050 تک ملک کو مکمل طور پر کاربن نیوٹرل بنانا ہے۔ جاپان کا یہ ماڈل دنیا بھر میں ماحول دوست نقل و حمل کے لیے ایک بہترین مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شپنگ سیکٹر میں کاربن نیوٹرلٹی حاصل کرنے کے لیے جاپانی حکومت نے اپنے قومی ادارے NEDO (نیو انرجی اینڈ انڈسٹریل ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن) کے تحت گرین انویشن (GI) فنڈ قائم کیا 2021 میں NEDO نے “نیکسٹ جنریشن شپ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ” کا آغاز کیا تاکہ جہاز رانی کی صنعت کا بھاری تیل (Heavy Oil) پر روایتی انحصار ختم کیا جا سکے۔
اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جاپان کی تین بڑی اور مسابقتی کمپنیوں نے باہمی مسابقت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک کنسورشیم قائم کیا ہے، جن میں کاواساکی ہیوی انڈسٹریز، یانمار پاور سلوشنز، اور جاپان انجن کارپوریشن شامل ہیں۔
جہازوں پر ہائیڈروجن کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 253 ڈگری سیلسیس کے شدید سرد درجہ حرارت پر مائع (Liquefied) شکل میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس حالت میں بھی یہ بھاری ایندھن والے تیل کے مقابلے میں تقریباً 4.5 گنا زیادہ جگہ گھیرتی ہے۔
ہائیڈروجن پر مبنی جہاز کے لیے تین بنیادی اجزاء تیار کیے جا رہے ہیں: ہائیڈروجن فیول انجن، ہائیڈروجن فیول ٹینک، اور سپلائی سسٹم۔ انجن کے لیے جدید احتراقی نظام اور فیول انجیکشن ٹیکنالوجیز پر کام جاری ہے، جبکہ ٹینک اور سپلائی لائنز میں باریک مالیکیولز کے اخراج (Leakage) اور دھاتوں کے خستہ ہونے (Brittle) کا علاج ڈھونڈ لیا گیا ہے۔
ان ٹیکنالوجیز کے زمین پر معائنے (Land Trials) کے لیے 2025 میں ہیوگو پریفیکچر (Hyogo Prefecture) میں واقع ‘جاپان انجن کارپوریشن کی تنصیب میں دنیا کا پہلا مائع ہائیڈروجن فیول سپلائی سسٹم تعمیر کیا گیا۔ سٹیل کے پائپوں کے ذریعے ہائیڈروجن فراہم کر کے تینوں کمپنیوں کے تیار کردہ انجنز کے کامیاب تجربات جاری ہیں۔

منصوبے کے مطابق 2030 تک مختلف تین ہائیڈروجن فیول انجنز سے لیس 3 بحری جہازوں کی آزمائشی و عملی تیاری مکمل کر لی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی بندرگاہوں پر ہائیڈروجن ری فیولنگ اسٹیشنز قائم کرنے اور بین الاقوامی سپلائی چین بنانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ جاپان کے یہ جدید جہاز عالمی سمندروں میں کامیابی سے گامزن ہو سکیں۔









