بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غزہ میں ایک اور سانحہ: زخمی باپ کے لیے لکڑیاں جمع کرنے نکلنے والے دو معصوم بھائی اسرائیلی میزائل کا نشانہ بن گئے

غزہ میں ظلم و بربریت کا سلسلہ کم ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے المیے جنم دے رہا ہے۔ تازہ واقعے میں جنوبی غزہ کے دو کمسن بھائی—11 سالہ جمعہ اور 8 سالہ فادی—اس وقت اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنے جب وہ اپنے زخمی والد کی مدد کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ دونوں بچوں کا مقصد محض اتنا تھا کہ وہ سردی سے بچنے کے لیے آگ جلانے کو چند لکڑیاں اکٹھی کریں، مگر وہ واپس لوٹ نہ سکے۔
خاندان کے مطابق بچوں کے والد شدید زخمی تھے اور گھر میں ٹھٹھرتی سردی سے بچنے کے لیے ان کا سہارا یہ معصوم بچے ہی تھے، جو نہتے ہونے کے باوجود باہر جانے پر مجبور ہوئے۔ لیکن چند لمحوں بعد ایک دھماکے نے سب کچھ بدل دیا، اور والد کے لیے لکڑیاں لانے والے دونوں بھائی خود کفن اوڑھ کر واپس آئے۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں “دو مشکوک افراد” کو یلو لائن عبور کرتے دیکھا گیا تھا، اور وہ مبینہ طور پر ایسی سرگرمی میں ملوث تھے جو فوج کے لیے “خطرہ” بن سکتی تھی۔ یہی دعویٰ حملے کی بنیاد بنایا گیا، حالانکہ متاثرین دو چھوٹے بچے تھے جو نہ یلو لائن سمجھ سکتے تھے نہ فوجی قوانین۔
اگرچہ غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے، اسرائیلی فوج نے شہریوں کو خبردار کر رکھا ہے کہ وہ فوجی پوزیشنوں کے قریب نہ جائیں۔ خطے میں جگہ جگہ یلو لائنز اور فزیکل مارکر نصب کیے جا رہے ہیں اور ایک آن لائن نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے، مگر بچے، بزرگ اور کمزور شہری ان نشانات کو سمجھ ہی نہیں پاتے—اور اکثر موت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ دو روز قبل بھی اسرائیلی اہلکاروں نے تلاشی دینے کے بعد ہاتھ اٹھا کر باہر آنے والے دو فلسطینی نوجوانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور اسرائیل نے انکوائری کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج ایک اور ایسا سانحہ رونما ہوا جس نے ثابت کردیا کہ تحقیقات تو محض رسمی کارروائی ہے، ظلم کا پہیہ بدستور گھوم رہا ہے۔
غزہ میں معصوم جانیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں، اور عالمی ضمیر اب بھی خاموش کھڑا ہے۔