بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئے بجٹ میں فوجی اہلکاروں کیلئے کنٹریبیوٹری پنشن نظام متعارف کرانے کی تیاری

حکومت مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن (Defined Contributory Pension – DCP) نظام نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کا باقاعدہ اعلان وزیر خزانہ اپنے بجٹ خطاب میں کریں گے۔

اس سے قبل سول شعبے میں نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے کنٹریبیوٹری پنشن نظام گزشتہ بجٹ کے دوران ہی متعارف کروایا جا چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund – IMF) پروگرام کی سخت شرائط کے باوجود سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کو ریلیف دینے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ (Ministry of Finance) نے افراطِ زر کی شرح کو مدِنظر رکھتے ہوئے تین مختلف تجاویز تیار کی ہیں، جن میں 5 فیصد، 7.5 فیصد اور 10 فیصد اضافے کی سفارش شامل ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا حتمی فیصلہ کنزیومر پرائس انڈیکس (Consumer Price Index – CPI) اور مالی گنجائش کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران اوسط افراطِ زر تقریباً 7.5 فیصد رہ سکتی ہے، اسی تناسب سے اضافی ایڈہاک الاؤنس دینے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

مزیدپڑھیں:یومِ تکبیر پاکستان کی تاریخ کا عظیم اور فیصلہ کن دن ہے،شہباز شریف

اعلیٰ سرکاری حکام نے بتایا کہ ان تجاویز پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ حکومت کو آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ مذاکرات کے بعد وفاقی کابینہ منظوری دے گی، جس کے بعد وزیر خزانہ بجٹ تقریر میں ان اقدامات کا اعلان کریں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف (IMF) سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ میں 5 سے 10 فیصد تک کمی کی درخواست بھی کی ہے۔ تاہم اس ریلیف کا انحصار بھی مالی وسائل اور بجٹ میں دستیاب گنجائش پر ہوگا۔

حکومت نے آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے تحت آئندہ بجٹ سے قبل مجموعی قومی پیداوار (Gross Domestic Product – GDP) کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کا حجم تقریباً 3 کھرب روپے بنتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو ٹیکس نیٹ میں توسیع، محصولات میں اضافے اور اخراجات میں کمی جیسے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔