اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (Federal Board of Revenew) کو ہدایت کی ہے کہ وہ موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط کی سہولت متعارف کرائے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں بڑی تعداد میں غیر پی ٹی اے منظور شدہ موبائل فونز موجود ہیں۔ اس لیے صارفین کو ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت دینے کے لیے قسطوں کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔

اراکین نے کہا کہ دنیا بھر میں کم قیمت مصنوعات بھی اقساط پر خریدی جاتی ہیں، اس لیے موبائل فون ٹیکس پر بھی یہی سہولت دی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے ایف بی آر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مل کر اس تجویز پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران بعض اراکین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ موجودہ ٹیکس نظام زیادہ تر ریونیو بڑھانے یا مقامی مینوفیکچرنگ کے تحفظ کے لیے ہے۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں یکم جولائی 2026 سے فرد کے اجرا کا نظام معطل کرنے کا فیصلہ
ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ جبکہ سیکرٹری خزانہ نے خبردار کیا کہ کم قیمت موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی سے تقریباً ایک ارب روپے کے ریونیو خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جس کی تلافی دیگر ذرائع سے کرنا پڑے گی۔








