ایران کے دوحہ میں تعینات کمرشل اتاشی عباس عبدالخانی (Abbas abdul Khani)کے مطابق 5 ماہ بعد ایران کی دیّر بندرگاہ اور قطر کی الرویس بندرگاہ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بحری تجارت کی بحالی دوحہ میں ایران اور قطری حکام کے درمیان بات چیت کے بعد ہوئی۔
یہ دونوں بندرگاہیں خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی تجارت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم ایران کی دیّر بندرگاہ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران متعدد حملوں کا نشانہ بھی بنی تھی۔
گزشتہ ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے ایک عبوری معاہدے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے بعد خلیج میں جنگ سے پہلے والی بحری تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اگرچہ خلیج میں جہازوں کی آمدورفت اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی اور بعض راستوں پر کشیدگی برقرار ہے۔
مزید پڑھیں:راولپنڈی میں قیدی وین سے فرار ہونے والا آخری قیدی بھی گرفتار کرلیا گیا
ایران کے ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے ایک عہدیدار نے بھی بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جبل علی بندرگاہ پر رکی ہوئی ایرانی مصنوعات کی کلیئرنس دوبارہ شروع ہوگئی ہے، جسے خلیجی خطے میں ایران کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دیا گیا تھا۔








