بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی موجودگی ناقابلِ قبول، ایران کی سخت وارننگ

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز(Strat of Hurmz) میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ حساس آبی گزرگاہ کسی بھی بیرونی طاقت کے فوجی مظاہرے کی جگہ نہیں بن سکتی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی بیرونی فوجی نقل و حرکت کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کا ذمہ دار اور سلامتی کا ضامن ملک ہے، لہٰذا خطے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری فوجی سرگرمی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایرانی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام ممالک کے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا تھا کہ عمان برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اپنی علاقائی سمندری حدود میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر برطانیہ اور فرانس کثیرالقومی فوجی مشن کے ذریعے بھی بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تازہ بحری معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے آٹھ تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی مقام تک پہنچنے کے بعد اچانک واپس مڑ گئے، جبکہ چند جہازوں نے ایرانی حکام کی ہدایات کے مطابق اپنا بحری راستہ تبدیل کر لیا۔

یاد رہے کہ ایران نے فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں اسرائیل یا امریکا سے منسلک بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے بعد اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

مزید پرھیں:آٹے کی قیمتوں کو پھر پر لگ گئے، 20 کلو تھیلا 2900 روپے تک جا پہنچا،ادارہ شماریات

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔