ہندو مذہبی وفد کے دورے کے دوران انتظامیہ کی جانب سے خاتون عملے کے ساتھ مبینہ طور پرمحدود بات چیت کے تقاضے پر احتجاج کرتے ہوئے فرانس کے مشہورِ زمانہ ایفل ٹاور کے ملازمین نے کام بند کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پیرس میں واقع یہ تاریخی یادگار پیر کے روز زائرین کے لیے مکمل طور پر بند رہی، جبکہ ایفل ٹاور انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان واقعے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ہندو مذہبی تنظیم بوچاسن واسی اکشر پروشوتم سوامی نارائن سنستھا (BAPS) سے تعلق رکھنے والے 100 افراد پر مشتمل ایک پرائیویٹ وفد نے ہفتے کے روز ایفل ٹاور کا خصوصی دورہ کیا تھا۔ فرانسیسی لیبر یونین (CGT) اور ٹاور کے عملے نے الزام عائد کیا کہ اس دورے کے دوران کچھ خاتون ملازمین کو ان کے ڈیوٹی کے مقام سے ہٹ کر دوسرے علاقوں میں جانے کا حکم دیا گیا اور ان کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ تمام خاتون ملازمین کو ہدایت کی گئی کہ وہ وفد کی موجودگی کے دوران مخصوص راستوں یا علاقوں سے نہ گزریں۔ لیبر یونین نے ان ہدایات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنسی بنیادوں پر خواتین کو نظر انداز کرنے اور غیر مرئی بنانے کی کوشش قرار دیا۔
ایفل ٹاور کی انتظامی کمپنی سیٹ (Sete) نے اعتراف کیا کہ ہندو وفد کی جانب سے ایسی درخواست کی گئی تھی کہ دورے کو اس طرح ترتیب دیا جائے تاکہ خواتین کے ساتھ ان کا رابطہ نہ ہو۔ کمپنی نے اعتراف کیا کہ یہ شرائط بالکل قبول نہیں کی جانی چاہیے تھیں کیونکہ یہ کمپنی کی اقدار اور مرد و خواتین کے درمیان برابری کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ انتظامیہ نے اس واقعے کے تمام نتائج بھگتنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب باپس تنظیم نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ان کے راہب تجرد (Celibacy) کی سخت زندگی گزارتے ہیں اور ان کا مقصد خواتین سے امتیازی سلوک یا انہیں مسترد کرنا نہیں تھا۔ تنظیم کے مطابق سادھو کی روحانی حالت اور کردار کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ایک اخلاقی نظم و ضبط کا حصہ ہے، جس کے تحت سوامی نارائن سادھو کبھی بھی خواتین سے بات چیت، لمس یا رابطہ نہیں کر سکتے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق کسی بھی فرد کو ایفل ٹاور تک رسائی سے نہیں روکا گیا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کو دکھ یا تکلیف پہنچی ہے تو وہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب باپس تنظیم نے اتوار کے روز فرانس میں اپنے پہلے بڑے مندر کا افتتاح کیا تھا، جس پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مبارکباد کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا۔ تاہم ایفل ٹاور میں پیش آنے والے اس واقعے نے فرانسیسی سیاست دانوں اور عوام میں شدید غصہ پھیلا دیا ہے۔ فرانسیسی نائب وزیراعظم اور وزیر برائے مساوات اوروج برج (Aurore Bergé) اور قومی اسمبلی کی صدر ییل برون پیوٹ (Yael Braun-Pivet) نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں جمہوری قوانین اور خواتین کے برابر حقوق سے بڑھ کر کوئی عقیدہ یا مذہب نہیں ہے۔
پیرس کے ڈپٹی میئر ایمینوئل گریگوائر نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ملازمین کے احتجاج کو بالکل جائز قرار دیا ہے۔ ایفل ٹاور، جو سالانہ 70 لاکھ کے قریب سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے، پیر کو تمام دن بند رہنے کے بعد منگل کے روز دوبارہ عام عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔









