اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی(Cabinet Committee) کا اہم اجلاس شروع ہوگیا، جس میں خیبرپختونخوا کی گورننس اور سکیورٹی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی جانب سے تیار کردہ دو اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن میں صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو درپیش مشکلات اور سکیورٹی انتظامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ رپورٹس میں دہشت گرد حملوں میں اضافے، دہشت گردوں کی جانب سے جدید طریقے استعمال کرنے اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار سے متعلق اہم اعدادوشمار پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے ایک سنگین اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گرد حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے درپیش چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر، مقامی سہولت کاروں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے باہمی روابط نے سکیورٹی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ صوبائی حکومت کی پالیسیوں، تیاری اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات میں مبینہ کمزوریوں کو بھی خطرات بڑھنے کی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔
حساس اداروں کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، تیاری اور مؤثر حکمت عملی میں کمی کے باعث دہشت گرد عناصر کو اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے مواقع ملے۔ رپورٹ میں دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کی سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان روابط کو بھی سکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
2026 میں 73 فیصد حملوں کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے
رپورٹ کے مطابق 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:وسیم اکرم ڈراموں میں انٹری کے لیے تیار، کس اداکارہ کے ساتھ نظر آئیں گے؟
سکیورٹی رپورٹس میں دہشت گردی کے بدلتے طریقۂ کار کے پیش نظر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جدید ہتھیاروں، جدید نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس آلات اور ضروری آپریشنل وسائل کی دستیابی دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے ناگزیر ہے۔
دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تشویشناک اضافہ
حساس اداروں کی رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں اضافے کو بھی اہم سکیورٹی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، جبکہ 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں ایک سال کے دوران ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی، بروقت اطلاع حاصل کرنے اور نئے سکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔
آئی ای ڈی حملوں میں بھی اضافہ
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دیسی ساختہ بارودی مواد (آئی ای ڈی) کے حملوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 181 تک پہنچ گئی، جبکہ رواں سال ستمبر تک ایسے 159 حملے ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے طریقۂ کار میں تبدیلی اور بارودی حملوں کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تربیت، ضروری سازوسامان اور بہتر آپریشنل سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی
حساس اداروں کی رپورٹ میں خیبرپختونخوا پولیس کو درپیش افرادی قوت اور وسائل کی کمی کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، جس سے پولیس کی مجموعی کارکردگی اور سکیورٹی ذمہ داریوں کی انجام دہی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو جدید ہتھیاروں اور ضروری آپریشنل سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق محفوظ گاڑیوں کی کمی کے باعث جنوبی اضلاع میں پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
جدید نگرانی اور انٹیلی جنس آلات کی کمی
رپورٹ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید سرویلنس اور انٹیلی جنس آلات کی ناکافی دستیابی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔
حساس اداروں کے مطابق دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر مؤثر نظر رکھنے، مشتبہ نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگانے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ضروری ہے۔
رپورٹ میں ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں مطلوبہ تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کی کمی کو ایک اہم چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کو تربیت یافتہ اہلکاروں اور انفراسٹرکچر کی کمی کا سامنا
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو خصوصی تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس ہونے کے باوجود سی ٹی ڈی کو افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے معمول کی پولیس پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولیات اور خصوصی انفراسٹرکچر بھی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کو جدید سہولیات، خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں اور مضبوط انفراسٹرکچر کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرسکے۔
سیف سٹی منصوبہ تاحال پشاور تک محدود
رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کے محدود دائرۂ کار کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق پورے صوبے میں شہری نگرانی کے نظام کو وسعت دینے کے بجائے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔
رپورٹ میں سکیورٹی کی بدلتی ضروریات کے پیش نظر نگرانی کے نظام کو وسعت دینے، پولیس کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے اور جدید آلات کی فراہمی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
کابینہ کمیٹی کا سکیورٹی اور گورننس کی صورتحال کا جائزہ متوقع
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور گورننس کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس میں سکیورٹی اداروں کی استعداد، صوبائی سطح پر تیاری اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں موجود خامیوں کا تفصیلی جائزہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے اسباب اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
سکیورٹی رپورٹس میں سامنے آنے والے اعدادوشمار اور نشاندہی کردہ مسائل کی روشنی میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے اور پولیس، سی ٹی ڈی سمیت متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار بہتر بنانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔
تاہم اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹس، ان میں شامل اعدادوشمار اور مجوزہ اقدامات کے حوالے سے حتمی فیصلوں کی تفصیلات باضابطہ اعلامیے یا متعلقہ حکام کی تصدیق کے بعد ہی واضح ہوں گی۔









