اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب غیر ملکی امداد پر انحصار ختم کر کے بین الاقوامی سطح پر تجارت اور پائیدار سرمایہ کاری کی پالیسی پر گامزن ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی معاشی سمت اور خارجہ معاشی پالیسی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے تمام عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے خصوصی طور پر خلیجی ممالک، امريکا اور چین کے ساتھ دو طرفہ تجارتی و معاشی روابط کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، اور پاکستان ان تمام دوست ممالک کے مسلسل تعاون اور شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاه سے دیکھتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے ملک میں معاشی استحکام اور زرِ مبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر رہیں، جبکہ جاری مالی سال کے لیے یہ حجم بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی قوی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تجارت اور ترسیلاتِ زر دونوں لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان اپنے دونوں اہم بین الاقوامی شرکاء یعنی چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں بیک وقت آگے بڑھا رہا ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے اور سی پیک ملکی معیشت کے لیے ایک بنیادی اور اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے جیسے سڑکوں، بندرگاہوں اور پاور پلانٹس کی تعمیر پر توجہ دی گئی تھی، جبکہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا بنیادی مقصد اس قائم شدہ انفراسٹرکچر سے معاشی فوائد حاصل کرنا، صنعتی تعاون بڑھانا اور ملک میں کاروباری و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔









