اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے، جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایوان میں پالیسی بیان دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی باضابطہ دعوت دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے ایوان کے مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد پیش کی۔ اقتدار دار اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان نے قرارداد کی کامل حمایت کی، جس کے بعد 214 ووٹوں سے قرارداد منظور کر لی گئی، جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ آئے اور اپوزیشن ارکان نے ”گورنر راج نامنظور“ کے شدید نعرے لگائے۔
اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کو ایمرجنسی نافذ کر کے کوئی خوشی نہیں ہوئی بلکہ حالات کے پیشِ نظر مجبوری میں یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاق نے کے پی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملانے کی مسلسل کوششیں کیں، لیکن صوبائی قیادت اس معاملے میں فرنٹ فٹ پر آکر قیادت سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وزیرِ داخلہ نے الزام عائد کیا کہ شہدا کے جنازوں میں صوبائی حکام عدم دلچسپی دکھاتے رہے اور بعض مقامی رہنماؤں نے ٹی ٹی پی کی مذمت تک نہیں کی۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت آج بھی پی ٹی آئی سے سیاسی و سیکیورٹی امور پر مذاکرات کے لیے مکمل تیار ہے، اور سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔ عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ قانون کے مطابق جاری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ داخلہ نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے انتخابی فارم 47 سے متعلق اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے مزاحیہ جملہ کس کر ایوان کو قہقہوں سے گونجا دیا۔









