اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری پر گرما گرم بحث کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے حکومتی اقدام کے قانونی جواز پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر وہ خفیہ یا باضابطہ انٹیلی جنس رپورٹ ایوان میں پیش کرے جس کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کو ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس آئینی شق کے تحت صدرِ مملکت کو صوبے کے گورنر کی باضابطہ رپورٹ موصول ہونا اور اس پر مطمئن ہونا لازمی شرط ہے، لہٰذا حکومت واضح کرے کہ صدر نے کس بنیاد پر اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سینیٹر علی ظفر نے وفاقی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی آڑ لے کر کسی بھی صوبائی حکومت کو برطرف کیا جا سکتا ہے، تو پھر اسلام آباد میں وفاق کی سطح پر ہونے والے سکیورٹی خدشات اور واقعات پر ایسا ہی سخت اقدام کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ انہوں نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان کی ابتر صورتِ حال کو حکومت کی ناکامی کا واحد پیمانہ مانا جائے، تو پھر بلوچستان میں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا جہاں مبینہ طور پر صوبائی انتظامیہ امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
بحث کے دوران ایوان کا ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب سینیٹر علی ظفر کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی نے شدید شور شرابا کیا، جس کے جواب میں پی ٹی آئی سینیٹر نے طنزیہ انداز میں ”چور مچائے شور“ کے جملے کا استعمال کیا۔ اس پر عابد شیر علی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور جوابی نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ”چور جیل میں پڑا ہے“، تاہم صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مداخلت کر کے عابد شیر علی کو خاموش کرا دیا۔ بیرسٹر علی ظفر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ ایوان کے سامنے حقائق رکھے تاکہ صوبائی حکومت کے خاتمے کا اصل پس منظر اور قانونی جواز بے نقاب ہو سکے۔









