امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم ’بہت جلد کسی نہ کسی صورت کچھ ہونے والا ہے‘۔
جنوبی کیرولائنا میں ایک جلسے سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’جی نہیں، میرا نہیں خیال کہ ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم جلد ہی کسی نہ کسی صورت ایسی پیشرفت دیکھیں گے جو سامنے آئے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ انتخابات کے بعد ہوگا، اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘
اس سے قبل جلسے سے اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ابھی ختم کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ پائیدار اور طویل المدتی ہو۔ ان کا کہنا تھا ’یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ہم ابھی بھی نکل سکتے ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں۔‘
سابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے فوجی اور مالی دونوں محاذوں پر ایران کو شکست دے دی ہے۔ تہران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:سہ ملکی ون ڈے سیریز: سری لنکا کا انگلینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ‘دی نیویارک ٹائمز’ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ان حملوں کی منظوری دینا حتمی نہیں ہے، کیونکہ وہ رواں سال کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں میں دوبارہ کودنے کے منصوبوں کو متعدد بار ویٹو کر چکے ہیں۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انتظامیہ ایسے ملٹری منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو ’وجود رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔‘
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ترین آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو مؤثر طور پر بند کر دیا۔
اس سے قبل، پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر اختلافی نکات کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔









