انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے اپنے چیف آف اسٹاف لیستیو سیگت پرابووو کو مبینہ طور پر فون ٹیپنگ کے معاملے میں غداری کے خدشے کے تحت برطرف کر دیا۔
چیف آف اسٹاف کو 2 اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ صدر، کابینہ ارکان اور دیگر شخصیات کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کے الزام میں ایک روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
صدر کے چیف آف اسٹاف لیستیو سیگت پرابووو کے علاوہ 2 دیگر پولیس افسران کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر 2025 سے رواں سال تک صدر، صحافیوں، سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور دیگر افراد کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کا الزام ہے۔
لیستیو 5 سال تک انڈونیشیا کے قومی پولیس کے سربراہ رہے، انہیں گزشتہ ماہ صدر کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا تھا۔
صدر کے ترجمان پرستیئو ہادی نے لیستیو کی برطرفی کا اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کے خیال میں یہ معاملہ غداری کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یہ اقدامات ریاستی مفادات اور ملکی قیادت کی سلامتی، بشمول صدر کی حفاظت، کو خطرے میں ڈالنے کے بھی مترادف ہیں۔
قانون، انسانی حقوق، امیگریشن اور اصلاحی امور کے رابطہ کار وزیر یسرل احضا مہندرا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کہ صدر پرابووو سوبیانتو کو اپنے اور کئی وزراء کے فون ٹیپ کیے جانے کے مبینہ منصوبے کا علم قومی پولیس کے سربراہ سویودی آریو سیتو کی جانب سے براہِ راست رپورٹ ملنے کے بعد ہوا۔
یسرل نے کہا کہ یہ معاملہ ریاست کے لیے خطرہ بننے والا سنگین فوجداری جرم ہے، جس پر سخت اور غیر مشروط قانونی کارروائی ضروری ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر پرابووو کو مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی پالیسیوں پر عوامی عدم اطمینان کے باعث مقبولیت میں کمی آ رہی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ گراوٹ، کرنسی کی قدر میں کمی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی حکومت دباؤ میں ہے۔
انڈیکس فراہم کرنے والے ادارے ایم ایس سی آئی کی جانب سے انڈونیشیا کی ایکویٹی مارکیٹ کی درجہ بندی کم کیے جانے کے خدشات نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
انڈونیشیا کے سینئر وزیر برائے قانونی امور یسرل اضحا مہندرا نے کہا کہ حکومت ابھی تک فون ٹیپنگ کے پیچھے محرکات کا تعین نہیں کر سکی۔
پولیس نے منگل کی شب بتایا تھا کہ ملزمان کیخلاف صدر، سرکاری عہدیداروں، میڈیا، سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، سماجی تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کے رہنماؤں کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے تفتیشی اداروں کی باضابطہ درخواست کے بغیر فون ٹیپنگ کی اور گزشتہ ماہ اپنی نگرانی کی سرگرمیوں سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ حذف کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر ملزمان کی شناخت صرف ان کے ناموں کے ابتدائی حروف کے ذریعے ظاہر کی تھی۔
مقامی میڈیا نے دیگر 2 ملزمان کی شناخت قومی پولیس کے قانونی شعبے کے سربراہ اہرِی سونتا ناسوتیون اور قومی پولیس کے تعلیمی ادارے کے سینئر افسر ایکو ہادی سانتوسو کے طور پر کی ہے۔
ادھر سنگاپور کے یوسف اسحاق انسٹی ٹیوٹ کے وزٹنگ سینئر فیلو اور سیاسی تجزیہ کار یانور نوگروہو نے کہا کہ صدر پرابووو کے دور میں چیف آف اسٹاف کا عہدہ پہلے کی نسبت کم اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ لیستیو کو ممکنہ طور پر قومی پولیس کے اہم عہدے سے ہٹانے کے لیے چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
یانور نوگروہو نے کہا کہ صدر کو ایسا پولیس سربراہ چاہیے جس پر وہ اعتماد کر سکیں، اور لیستیو اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ لیستیو سابق صدر جوکو ویدودو کے وفادار سمجھے جاتے تھے۔









