بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات معدوم، عرب جماعتوں کی گادی آئزن کی حمایت

اسرائیل میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد بنیامین نیتن یاہو کے دوبارہ وزیراعظم بننے کے امکانات انتہائی کم ہو گئے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نیتن یاہوکی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے وزیراعظم کے لیےکسی کی بھی حمایت سےانکار کردیا، یہ جماعت قدامت پسند طلبہ کوفوجی سروس سےاستثنٰی دینےکا قانون منظور نہ ہونے پر ناراض ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کے مطابق جماعت کے نمائندوں نے اسرائیلی صدر سے مشاورت میں کسی امیدوار کی سفارش نہیں کی جبکہ مستقبل کی کسی بھی حکومت کی حمایت فوجی سروس سے استثنیٰ کے قانون سے مشروط ہوگی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اسرائیلی سیاستدان یائر گولان کا اپوزیشن سے عرب جماعتوں کیساتھ ملکر حکومت بنانے کا مطالبہ

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انتخابات میں 11 نشستیں حاصل کرنے والے عرب سیاسی اتحاد ‘جوائنٹ لسٹ اور 8 نشستیں حاصل کرنے والی عرب جماعت ‘رام’ (Ra’am) کی جانب سے ‘یشر’ پارٹی کے چیئرمین گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے بعد انہیں اگلی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

عرب جماعت ’رام‘ کے سربراہ منصور عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نےحکومت سازی کےلیے آئزن کوٹ کی حمایت اس لیے کی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا حکومت بنانا ممکن ہے۔

عرب جوائنٹ لسٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے وزیر اعظم کے لیے صدر اسحاق ہرزوگ کو گادی آئزن کوٹ کا نام تجویز کریں گے۔

اس پیشرفت کے بعدآئزن کوٹ کو کنیسٹ میں 67 ارکان کی منظوری مل جائے گی جو کہ درکار 61 ارکان سے بھی زیادہ ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق مبصرین کا ماننا ہے کہ آئزن کوٹ کی حمایت کرنے والی ان جماعتوں کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ حتمی طور پر حکومتی اتحاد میں شامل بھی ہوں گی۔

مزید پڑھیں:یو اے ای میں یکم جنوری سے نئے ٹریفک قوانین نافذ کرنےکا اعلان

جوائنٹ لسٹ کا کہنا ہے کہ اس کے تینوں دھڑوں کے درمیان یہ متفقہ فیصلہ ’نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے عوامی مطالبے‘ کے جواب میں کیا گیا ہے۔