انقرہ: ترکیہ میں 7.1 شدت کے زلزلے میں 6 ہزار سے زائد بلند و بالا رہائشی عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا تاہم تحقیقات میں بے پناہ جانی نقصان کی وجہ ناقص تعمیرات ثابت ہوئی ہیں۔
ترک میڈیا کے مطابق آسمان کو چُھوتی رہائشی عمارتوں کے زلزلے کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کے بجائے زمین بوس ہوجانے پر ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں 12 ملوث افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

تعمیرات میں زلزلے سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی پر 29 افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔ پولیس چھاپہ مار کارروائی کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ ترکیہ میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے لیے ’ڈیزائن کوڈ‘ کے تحت زمین کی سطح پر عمارت کو 30 سے 40 فیصد ارتعاش کو برداشت کرنا چاہیے تاہم زلزلے میں اکثر عمارتیں ایسا نہ کرپائیں۔
جس پر وزارت انصاف نے زلزلے سے متاثرہ 10 صوبوں میں ناقص تعمیرات کی تحقیقات کے لیے دفاتر قائم کر دیے ہیں۔ ان صوبوں میں مجموعی طور پر 6 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہوئیں۔
عمارتوں کی تعمیر میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر کئی بلڈرز کے لائسنس منسوخ ہونے کا امکان ہے جب کہ دانستہ طور پر کئی گئی کوتاہی یا لاپرواہی پر سزا کا اطلاق بھی ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے میں بالترتیب 22 ہزار 700 اور 3 ہزار 900 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 80 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔








