کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف امریکی صحافی سیمور ہرش نے دو دن میں دوسرا دھماکا خیز انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے روس سے یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی روسی گیس پائپ لائن نورڈ اسٹریم ون اور ٹو کو امریکا نے اس لیے تباہ کیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں روس کے معاملے پر جرمنی سخت رویہ نہ اختیار کرلے۔ یاد رہے کہ دو دن قبل ہی سیمور ہرش نے انکشاف کیا تھا کہ روسی گیس پائپ لائن تباہ کرنے میں امریکا کا ہاتھ تھا۔ جرمن اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں سیمور ہرش کا کہنا تھا کہ امریکا نے روسی گیس پائپ لائن اس لیے تباہ کی کیونکہ روس یوکرین جنگ کے نتائج مغربی ممالک کی مرضی کے مطابق سامنے نہیں آ رہے تھے۔ اس دوران جرمنی نے از خود نے نورڈ اسٹریم گیس لائن 2؍ میں گیس کی وصولی بند کر دی تھی، اس میں بین الاقوامی پابندیاں کار فرما نہیں تھیں۔ تو ایسے میں امریکا کو ڈر تھا کہ کہیں جرمنی موسم سرما سے پہلے ہی روس کیخلاف عائد کردہ پابندیاں ختم نہ کر دے۔ سیمور ہرش کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کو کوئی پریشانی نہیں تھی کہ موسم سرما میں جرمن عوام ٹھٹھر جائیں۔ سیمور ہرش کا کہنا تھا کہ نورڈ اسٹریم پر بم جون 2022ء میں بحیرہ بالٹک میں فوجی مشقوں کے دوران نصب کیے گئے تھے لیکن آخری لمحات میں واشنگٹن پریشان ہوگیا، صدر کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائنز تباہ کرنے میں انہیں پریشانی ہو رہی ہے، لیکن اس کے بعد نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بموں کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کرنے کی منظوری دی گئی۔ سیمور ہرش کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن تباہ کرنے کے پیچھے مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا میں کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ اس سے امریکی معیشت کو زبردست تیزی ملے گی جو طویل عرصہ تک رہے گی، یہ لوگ جنگ کے ساتھ ملک میں الیکشن بھی جیتنا چاہتے تھے، یہ لوگ چاہتے تھے کہ یوکرین کسی جادوئی انداز سے جنگ جیت جائے۔
امریکا نے اپنی معاشی تیزی کیلئے روسی پائپ لائن تباہ کی، سیمور ہرش








