بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نا ن فائلرز پر بینکوں سے کیش رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ٹیکس کیوں عائد کیا گیاہے ؟ اسحاق ڈار نے اسمبلی سے خطاب میں بتا دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ نان فائلرز پر بینکوں سے رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ٹیکس معیشت کو دستاویزی کرنے کیلئے ضروری قدم ہے ، ، ٹیکس کا سارا بوجھ چند ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں ،اس لیے وقت کی اشد ضرورت ہے کہ اس ملک کے تمام شہری جو ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہیں وہ واجب الادا ٹیکس ادا کریں،سپر ٹیکس کی سلیب 30 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے ، یعنی جس کی آمدن 50 کروڑ سے زائد ہو گی سپر ٹیکس اس پر لاگو ہو گا ۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بجٹ تجاویز میں ہونے والی ترامیم بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ ہمارے ساتھیوں نے حج کیلئے جانا ہے کل ہم نے ایک خصوصی حج فلائٹ ایرینج کی ہے ، جو کہ سعودی پروٹوکول اور اتھارٹی کے ساتھ طے ہے ، ورنہ 22 سے 23 کے درمیانی شب بند کر دی گئی ہیں،، الحمدو اللہ حجاج منا میں جارہے ہیں،، ، کل صبح سویرے فلائیٹ ہے ، جنہوں نے فیصلہ کیا ہے وہ تیار رہیں، وہاں ہمارے لیے دعا کریں ،، ان کی آواز بھی اس میں شامل ہو گی ، اس کے نتیجے میں پاکستان کے چند سالوں سے سامنے آنے والے مسائل سے اللہ ہمیں نجات دے ۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ قومی اسمبلی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتاہون جنہوں نے بجٹ کو بہتر بنانے کیلئے مفید تجاویز دیں ، معزز اراکین کے مشورے عوامی امنگوں کی بہتر ترجمانی کرتے ہیں، معزز اراکین کی تجاویز ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، بلاو ل بھٹو زرداری ، قائد اختلاف راجہ ریاض اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے مالی سال 2023*-24 میں ہماری اصلاح کیلئے تعمیری تنقید کے ساتھ عمدہ تجاویز دیں، ان کا شکریہ ادا کرتاہوں ۔
ایوان کی خواتین ممبران نے کارروائی اور بحث میں دلچسپی کو سراہتاہوں ،ان بہنوں نے اپنے حلقوں کی ترقی اور خواتین کی بہبود کیلئے اچھی تجاویز دیں ۔ موسمیاتی تبدیلی ، فوڈ سیکیورٹی ، شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل ، آبی تحفظ، آبادی میں روک تھام ، نواجوانوں کی فنی مہارت، ذراعت کے شعبے میں مراعات ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، یوٹیلٹی سٹورز کی وسعت، او او بی آئی کی پینشن بڑھانے ، کم از کم اجرت 32 ہزار ، صحت اور تعلیم کے فروغ، پسماندہ علاقوں خصوصی بلوچستان ، نئے ضم ہونے والے اضلاع کی ترقی کیلئے بہترین تجاویز دی گئیں۔
قومی اسمبلی کے معزز اراکین کی طرح سینیٹ کے اراکین نے بھی بجٹ کے تخمینہ جات کا جائزہ لیا اور بہتر بنانے کیلئے تجاویز پیش کیں ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محاصل کی جانب سے فنانس بل اور بجٹ کے تخمینہ جات کا جائزہ لے کر جو سفارشات دی گئیں ہیں وہ مشعل راہ ہیں۔ نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بھی بہت میٹنگز کی ہیں، میں اور میرے ساتھیوں نے شرکت کی ، انہوں نے چیمبر ز اور دیگر لوگوں کو بھی میٹنگ میں بلایا ، میں سب کا مشکور ہوں ۔
ایوان بالا کی جانب سے مجموعی طور پر 59 سفارشات آئیں ان میں سے 19 جنرل نوعیت کی تھیں، معزز ممبران سینیٹ نے بجٹ بحث کے دوران بھی اپنی تجاویز پیش کیں، جن میں میں سود کے خاتمے ، دفاعی بجٹ میں اضافہ ،غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول ، لیپ ٹاپ سکیم ، ووکیشینل ٹریننگ ، نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ، یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاءکی سستے داموں فراہمی ، بیج کھاد اور شمسی توانائی کی پیدوار پر سبسڈی، صحت کے محکمے کا بجٹ بڑھانا ، آئی ٹی کا فروغ شامل ہیں۔
پوری کوشش کی گئی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود جن تجاویز پر عمل ممکن ہوانہیں مکمل یا جزوی طور پر منظور کر لیا جائے ، میڈیا کے دوستوں اور ماہرین کا بھی شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے بجٹ کے اچھے پہلوؤں کی ستائش کی ، کچھ معزز ممبران کو بعض تبدیلیوں پر تحفظات ہیں جو فنانس بل میں سپر ٹیکس سے متعلق تجویز دی گئی ہے ،بینکوں سے رقم نکالنے پر نان فائلرز پر 0.6 فیصد ٹیکس کے حوالے سے بھی چند رائے سامنے آئی ہیں، واضھ کرنا چاہتاہوں کہ سپر ٹیکس گزشتہ سال متعارف کروایا گیاہے ، دس فیصد سپر ٹیکس کے نفاذ کیلئے انکم سلیب کو تین سو ملین سے بڑھا کر پانچ سو ملین کر دیاہے ۔ پاکستان کو ٹیکس آمدنی کی شدید ضرورت ہے ، سپر ٹیکس صرف زیادہ آمدنی والے افراد پر لگایا جاتاہے ، جو یہ ٹیکس دے سکتے ہیں، حکومت اسی لیے اسے برقرار رکھ رہی ہے ، اس میں تفریق ختم کرتے ہوئے سلیب کو بڑھا دیا گیاہے ۔
نان فائلرز کیلئے بینکوں سے رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ٹیکس کے معاملے میں یہ واضح کرنا چاہتاہوں کہ معیشت کی ڈاکومنٹیشن اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اہم قدم ہے ، ٹیکس کا سارا بوجھ چند ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں ،اس لیے وقت کی اشد ضرورت ہے کہ اس ملک کے تمام شہری جو ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہیں وہ واجب الادا ٹیکس ادا کریں، تاکہ اس زمہ داری کو مل کر نبھایا جا سکے ۔
بعض ممبران نے بونس شیئر پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کی ہے ،کمپنیاں شیئر ہولڈرز کو کیش اور بونس شیئرز کی شکل میں جاری کرتی ہیں ، جیسے شیئر ہولڈرز سٹاک ایکسچینج میں اپنے شیئرز بیچ سکتے ہیں اور نقد رقم حاصل کر سکتے ہیں ، پہلی صورت میں شیئر ہولڈر موصول ہونے والے نقد کیش پر پندرہ فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں ، دوسری صورت میں بونس شیئر کی صورت میں ملتاہے تو اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اس صورت میں ہم نے کیش ڈیویڈنٹ اور بونس شیئر دونون پر ٹیکس لگا دیاہے ساتھ بونس شیئر کیلئے کم شرح رکھی ہے ، اس کیلئے 10 فیصد تجویز کی گئی ہے ۔جب بجٹ پاس ہو گا تو لاگو ہو جائے گی، یہ ٹیکس کمپنی نہیں بلکہ جس کو بونس شیئرز ملیں گے وہ ادا کرے گا۔ بہت سارے لوگوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعارف کروائے گئے 99 ڈی سیکشن پر تحفظات ظاہر کیئے ہیں ،جو وفاقی حکومت کو اس شخص سے پچاس فیصد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دیتا ہے جس نے اس سے خارجی عوامل کی وجہ سے غیر متوقع منافع کمایا ہو ، اس کا ہدف خاص شخص یا کمپنی نہیں ہے ، اگر حکومت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ایسے شعبے نے خارجی عناصر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر متوقع منافع کمایا ہے تو یہ ٹیکس پورے شعبے پر لگایا جائے گا نہ کی کسی ایک کمپنی پر ۔یہ کارپوریٹ سیکٹر ہو گا ، یہ کسی انفرادی شخصیت پر نہیں ہوگا۔