بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کو مربوط لیبر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ورنہ غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے جیسے واقعات ہوتے رہے گئے: میاں اکرم فرید

حکومت ہماری نئی پود کے لیے اپنے ملک میں بنیادی سہولتیں اور روزگار کو یقینی بنائے جو وہ دوسرے ممالک میں بس کر حاصل کرنا چاہتے ہی: شرکاہ
اسلام آباد: چیرمین سکل ڈیویلپمنٹ کونسل اسلام آباد ایم اکرم فرید نے میٹنگ کے دوران کے اظہار خیال کرتے ہویے کہا کہ پاکستان کو مربوط لیبر پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے جیسے واقعات ہوتے رہے گئے ،اور ہزاروں افراد اس میں جان گنواہ بیٹھتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل ہے جن کی نصف سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کل آبادی میں68 فیصد لوگ تیس سال سے کم عمر ہیں جبکہ ان میں سے 32 فیصد پندرہ سے بیس سال عمر کے درمیان ہیں۔ مگر بدقسمتی سے آج پاکستان کے نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے خاصے پریشان اور مایوس ہیں، کیونکہ مملکت خداداد میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے سہولتوں سے زیادہ مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے۔ نوجوانوں کے مسائل حل کیے بغیر ملک میں نہ تو ترقی ممکن ہوسکتی ہے نہ ہی بہترین معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے،ہمارے 70 لاکھ سے زائد افراد دوسرے ممالک میں ملازمتیں کررہے ہیں، یہ نوجوان زیادہ تر فنی تعلیم کے کم مدت دورانیے کے کورس کرکے بیرون ممالک خدمات سرانجام دے رہے ہیں، بلاشبہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بناکر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے اور جس سے اور سیز کا سرمایہ جو کہ 24 بلین سالانہ آتا ہے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر 40بلین تک سالانہ کیا جا سکتا ہےاور نوجوان نسل کو تربیت دے کر بیرون ممالک بیجا جا سکتا ہے ، نوجوان نسل میں فنی مہارت نی ہونے کہ وجہ سے وزگار کے مواقع نہیں ملتے ، ملک میں بیروزگاری میں کاسٹ آف مروڈکشن بڑھنے کے وجہ سے بہت اضافہ ہو ہے ، نوجوان نسل روزگار نہ ہونے کہ وجہ غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک جاتی ہے جس سے سینکڑوں نوجوان جانے گنواہ بیٹھتے ہیں ۔،انہوں نے مزید کہا کے انڈسٹری نے روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی لیب اور دیگر آلات کے استمال سے طلبہ اور طالبات مستفید ہو رہے ہیں ہم مصنوعات کی تیاری میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں اور بہت زیادہ زرمبادلہ اشیا کی درآمد پر خرچ کررہے ہیں۔ اشیا کی پیداوار اور اس میں اضافے کیلئے ہمیں اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہوگا تاکہ وہ تکنیکی اور پیداواری شعبوں کو صحیح خطوط پر چلائیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو،پاکستان میں کو شعور دینے کی ضرورت ہے کہ یورپی ممالک میں ان کے لیے حقیقی مواقع کون سے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جو مقامی افرادی قوت پر منتقل ہونے کی کوشش کررہے ہیں، ان ممالک میں ملازمت کے مواقع میں بتدریج کمی کے باعث زیادہ تر پاکستانی ان کشتیوں کے ذریعے غیرقانونی سفر کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک معلوماتی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو نہ صرف ان کشتیوں پر سفر کرنے کے خطرات کے حوالے سے آگاہ کیا جاسکے بلکہ یورپ پہنچنے پر جو زندگی ان کی منتظر ہوگی اس حوالے سے بھی خبردار کیا جائے۔حکومت کا ، فنی تربیت اور ہنر سکھانے کا نہ تو کوئی مناسب نظام موجود ہے اور نہ ہی شوق، روایتی تعلیم کی مارکیٹ میں کوئی مانگ نہیں اور اپنے معاشی خوابوں کے تعاقب میں نوخاستہ کی اکثریت کم عمری سے ہی دوسرے ممالک جانے کے سپنے دیکھنا شروع کر دیتی ہے اندرون پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کی نوجوان نسل بیروز گاری اور منہگائی کا عذاب جھیلنے کی بجائے کسی نہ کسی ذریعے سے بیرون ملک قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ غیر ہنر مند اور کم تعلیم یافتہ نئی نسل جہاں مشرق وسطی اور عرب ممالک میں قابل رحم حالت میں ادنٰی مزدوریاں کر کے زندگی کی گاڑی کو کسی نہ کسی طرح سے کھینچ رہی ہے، وہیں انسانی سمگلر گروہوں کے ذریعے غیر قانونی راستوں سے گزر کر انتہائی نامساعد حالات میں یورپ پہنچنے کی خواہش میں کئی اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔کینیڈا اور آسٹریلیا اور مشرق بعید کے ممالک میں ابھی بھی مہارت یافتہ افراد کے لیے پرکشش مواقع موجود ہیں لیکن ایسی مہارت نہ ہونے کہ وجہ ہمارے نوجوان پیچھے رہے جاتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری ریاست کے مقتدر اور فیصلہ ساز ادارے کب خواب غفلت سے جاگیں گے اور ہماری نئی پود کے لیے اپنے ملک میں ان ساری سہولتیں اور روزگار کو یقینی بنائیں گے جو وہ دوسرے ممالک میں بس کر حاصل کرنا چاہتے ہیںانہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت نوجوانوں کی بامقصد تعلیم و کردار سازی کے لیے خصوصی اقدامات کرے، انہیں بہتر روزگار، صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اور کھیل کے میدانوں سمیت تفریح کے مناسب مواقع فراہم کئے جائیں۔ تاکہ نوجوان مایوسیوں اور کٹھن حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنی صلاحیتوں اور علم و فن کو بروئے کار لاکر مملکت خداداد پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں
۔