کم اَز کم اُجرت طے کرنے کا مقصد آمدنی کی اس کم سے کم حد کا تعین کرنا ہوتا ہے جس میں متعلقہ ملک یا علاقے میں کام کرنے والے افراد کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ تصوّراتی طور پر تو یہ آمدنی اتنی کافی ہونی چاہیے کہ بنیادی ضرورتیں مثلاً خوراک اور رہائش کے اخراجات اس سے پورے ہو جائیں لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ کم اَز کم اُجرت میں یہ بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔
یہ جاننے کے لئے کہ دُنیا کے مختلف ملکوں میں کم اَز کم اُجرت کتنی مختلف ہے، ایک بین الاقوامی ای۔کامرس پلیٹ فارم ’’پیکوڈی‘‘ (Picodi) جو آن لائن اسٹورز کے لئے رعایتی کوپن فراہم کرتا ہے، سے وصول شُدہ ڈیٹا استعمال کیا گیا ۔ اس جائزے میں67 ملکوں کو شامل کیا گیا اور جنوری 2023ء تک کی اُجرتوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس صفحے پر نیچے جو جدول دکھایا گیا ہے اس میں ملک کا نام، جنوری 2022ء کے مقابلے میں اُجرت میں فیصد اضافہ اور جنوری 2023ء میں کل وقتی ملازمین کو ادا کی جانے والی کم اَز کم ماہانہ اُجرت امریکی ڈالر میں واضح کی گئی ہے۔ ’’پیکوڈی‘‘ کا یہ کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ٹیکس منہا کرنے اور مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر میں تبدیل کرنے کے بعد حاصل کئے گئے ہیں۔ اس جدول میں سرفہرست دو ممالک ارجنٹائن اور ترکی ہیں جہاں جنوری 2022ء کے مقابلے میں کم اَز کم اُجرت میں بالترتیب 104.5 فیصد اور 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور جنوری 2023ء میں ان ملکوں کے محنت کش علی الترتیب ماہانہ 336 ڈالر اور 457 ڈالر کم اَز کم اُجرت وصول کر رہے تھے۔
اس فہرست میں مالدووا تیسرے نمبر پر ہے جس نے گزشتہ سال کی نسبت کم اَزکم اُجرت میں32.5 فیصد اضافہ کیا ہے اور اس ملک کے ورکرز اپنی محنت کے بدلے جنوری 2023ء میں کم اَز کم180 ڈالر اُجرت پا رہے تھے۔ حیرت انگیز اَمر یہ ہے کہ ترکی اس وقت اپنی کرنسی کی ناقدری کے حوالے سے ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔ 2021ء کے مقابلے میں ترکش لیرا کی قیمت 40 فیصد گھٹ چکی ہے اور اس کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 2022ء کے ایک سروے میں اس حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ترکی کے 70 فیصد عوام کو خوراک کی ادائیگی کیلئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی امریکا کا معاشی طور پر دُوسرا سب سے اہم ملک ارجنٹائن بھی ان دنوں شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے۔ عوام کو اس کمر توڑ مہنگائی سے کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لئے ارجنٹائن کی حکومت نے 2022ء میں تین مرتبہ کم اَز کم اُجرت میں اضافہ کیا تھا۔
پیکوڈی کے فراہم کردہ اس جدول میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کم اَز کم اُجرت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال میں سب سے زیادہ اضافہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں مملکت خداداد پاکستان چھٹی پوزیشن پر ہے جس نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم اَز کم اُجرت24.5 فیصدبڑھائی ہے اور اس وقت پاکستانی محنت کش ماہانہ 111 ڈالر کما رہے ہیں جو اس وقت کی شرح مبادلہ کے مطابق31,468 روپے کے مساوی ہیں۔ یہ اَمر قابل ستائش ہے کہ حکومت پنجاب نے اپنے صوبے میں محنت کشوں کی ماہانہ اُجرت 32 ہزار روپے کرنے کا اعلان گزشتہ مارچ میں کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت سندھ نے بھی یہ تجویز پیش کی تھی کہ مزدوروں کی ماہانہ اُجرت کم اَز کم44 ہزار روپے ہونی چاہیے کیونکہ مہنگائی کے پیش نظر انہیں موجودہ25 ہزار روپے ماہانہ میں گزارہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں تو کسی حد تک اعلان کردہ اُجرت پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے لیکن نجی اداروں میں محنت کشوں کو اس سے آدھی تنخواہ بھی بمشکل ادا کی جا رہی ہے۔
پیکوڈی کی کم اَز کم اُجرت کی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں گزشتہ سال کی نسبت اس اُجرت میں 8.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اب بھارتی محنت کش ماہانہ95 ڈالر کما رہے ہیں۔ امریکا میں کم اَز کم اُجرت میں12 فیصد اضافہ کے ساتھ ماہانہ 1550 ڈالر کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ تاہم امریکا کی تمام ریاستیں کم اَز کم اُجرت کا تعین خود کرتی ہیں جو ایک دُوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن امریکا کی وفاقی حکومت کی جانب سے کم اَز کم مزدوری 2009ء میں7.25 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کی گئی تھی اور تاحال اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہر ریاست کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے طور پر کم اَز کم اُجرت کا تعین اس شرط کے ساتھ کر سکتی ہیں کہ ان کی طے شُدہ اُجرت وفاق کی مقررہ حد سے کم نہ ہو۔ جو ریاستیں خود کم اَز کم اُجرت مقرر نہیں کرتی ہیں وہاں وفاق کی کم اَز کم اُجرت پر عمل کیا جاتا ہے۔ اگر فرض کریں کہ کوئی امریکی محنت کش ایک ہفتے میں 40 گھنٹے کام کرتا ہے تو کم اَز کم وفاقی اُجرت 7.25 ڈالر فی گھنٹے کے حساب سے ٹیکسوں سے پہلے کی سالانہ آمدنی15080 ڈالر ہوگی۔ ریاست کیلی فورنیا نے کم از کم اُجرت 15.50 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کی ہے۔ اس لحاظ سے ٹیکسوں سے پہلے وہاں مزدوروں کی سالانہ آمدنی32240 ڈالر ہو سکتی ہے۔









