بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف معاہدہ ناگزیر،مگر سارا بوجھ بزنس کمیوٹنی پر ڈالنا نقصان دہ ہوگا،احسن ظفر بختاوری

اضافی ٹیکسز کی وصولی،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،ملک میں ڈالرایمنسٹی سکیم کی واپسی درست اقدامات نہیں ہیں،صدر آئی سی سی آئی


اسلام آباد(ممتازنیوز)صدر اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدمات مشکلات کا شکار ملکی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔اضافی ٹیکسز کی وصولی،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،ملک میں ڈالر لانے کیلئے ایک سال کی ایمنسٹی واپس لینے جیسے اقدامات معاشی بحالی کیلئے شروع کیے گئے سفر میں رکاوٹ پیدا کریں گے،عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ ناگزیر مگر حکومت کو ملکی معاشی بحالی کو بھی مد نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔بزنس کمیونٹی حکومتی اقدامات کی حمایت کرتی آئی ہے مگر حکومت ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے کاروبار کیلئے پہلے ہی سے مشکل حالات مزیدابتر ہو جائیں۔منگل کو جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلام آبا د چیمبر سمیت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی نے بجٹ تجاویز میں حکومت سے شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،جس کی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت پارلیمانی کمیٹیوں نے بھی حمایت کی مگر اب بجٹ منظور ہوتے ہی سٹیٹ بینک نے ایک فیصد شرح سود بڑھا دیا ہے۔یہ فیصلہ پہلے سے مشکلات کا شکار پاکستانی معیشت کیلئے مزید مشکل وقت لائے گا۔پاکستان کی انڈسٹری پہلے ہی ریجنل ممالک میں سب سے زیادہ شرح سود کا سامنا کر رہی ہے۔ان حالات میں انڈسٹری کا پہیہ چلانا نا ممکن ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے جہاں پروڈکشن میں کمی آئے گی وہیں انڈسٹری متاثر ہونے سے روزگار کے مواقع بھی کم ہوں گے اور بے روزگاری بڑھنے سے جرائم میں اضافہ ہوگا۔ بجٹ میں وفاقی حکومت نے ملک میں ڈالر کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک سال کی ایمنسٹی کا اعلان کیا تھا جس کو اب واپس لیا گیا ہے جو کہ درست اقدام نہیں ہے۔پاکستان کے کرنسی کے مسائل گزشتہ ایک سال سے زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں۔کرنسی میں استحکام تب ہی آئے گا جب ملک میں ڈالر کی کمی نہیں رہے گی۔حکومت کی یہ اچھی سکیم تھی مگر اس کو واپس لینے کے نقصانات ہوں گے۔ یہ بہترین موقع تھاکہ جو لوگ ڈالر واپس لانا چاہتے ہیں انہیں سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پراپرٹی اور کنسٹرکشن سیکٹر روزگار،ریونیو اور گھروں کی ضروریات پورے کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کررہا ہے۔حکومت نے بجٹ میں مراعات دے کر بہترین فیصلہ کیا تھا مگر اب اس سیکٹر پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا ہے جو ترقی کیلئے نقصان دہ ہے۔حکومت پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود افراد سے مزید ریونیو وصول کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے اقدامات کرے۔اس سلسلے میں اسلام آباد چیمبر نے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی سمجھتی ہے کہ ملک کیلئے آئی ایم ایف معاہدہ ناگزیر ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران حقیقی قومی رہنما اور پاکستانی قوم کی امنگوں کا ترجمان بن کر مذاکرات کیے ہیں۔بات چیت کے طویل دورانیے میں قومی مفادات پر سودا نہ کر کے وہ حقیقی قومی ہیرو بن کر سامنے آئے مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ آخر کار ملک کو معاشی طور پر بچانے کیلئے انہیں بھی آئی ایم ایف کی مشکل شرائط تسلیم کرنا پڑیں۔بزنس کمیونٹی یہ سمجھتی ہے کہ دوست ممالک اور عالمی اداروں کا اعتماد آئی ایم ایف معاہدے سے بحال ہوگا مگر حکومت اس معاہدے کا سارا بوجھ عوام یا بزنس کمیونٹی پر ڈالنے کے بجائے درمیانی راستہ تلاش کرے۔انہوں نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے حکومت شارٹ ، مڈ اور لانگ ٹرم پالیسی تشکیل دے۔