بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئی ایم ایف سے مذاکرات، وزارت خزانہ نے تیاریاں شروع کردیں

اسلام آبا د ( ویب ڈیسک) وزارت خزانہ نے اآئی ایم ایف سے آئندہ ریویو مذاکرات کےلیے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے اور اہم اہداف کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت کا ایک اجلاس میں جائزہ لیاگیا ہے۔

مقداری پرفارمنس معیار کے تحت حکومت کی جانب سے دی گئی ضمانتوں کی حد 4000 ارب روپے تھی لیکن وزارت خزانہ نے ستمبر 2023 سےمجموعی ضمانتیں 3853 ارب پرروک رکھی ہیں تاہم بیرونی فنانسنگ کی ضرورت آئی ایم ایف سے آئندہ مذاکرات کےدوران پاکستان کا سب سے مشکل ترین معاملہ بن سکتا ہے ۔

فاریکس مارکیٹ کی فنکشنگ ایک اور وجہ نزاع بن سکتی ہے اس پر اسٹرکچرل بینچ مارک مقرر کیےتھے تھے جن میں پرائیویٹائزیشن پر سرکولر والس لینا ، مخصوص قسم کی درآمدات میں زریمبادلہ فراہم کرنا وگیرہ شامل ہے تاکہ زرمبادلہ کے ریٹ بھرپورطریقے سے منڈی طے کر سکے۔ ان تیاریوں کے حوالے سے وزارت خزناہ میں اجلاس ہوا۔

آئی ایم ایف کی ٹیم 2 نومبر 2023 کو اسلام آباد کپہنچے گی اور غالباً 16 نومبر 2023 تک یہاں موجود رہے گی۔

حکومت نے بجلی کے سیکٹر کا گردشی قرضہ طے شدہ حدود کے اندر رکھا ہے ور یہ پہلی سہ ماہی میں227 ارب روپے اوپر گیا ہے اور اس نے 20.5 گھرب روپے ستمبر 2023 کے آخرتک چھوئی ہیں۔ بڑھتا ہوا گردشی قرضے کا ہدف کامیابی سے ان حدود کے اندر حاسل کرلیا گیاہے جو آٗی ایم ایف کے گردشی قرض کی مینجمنٹ کے پلان کا حصہ ہے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیر کو د ی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ بینظیر انکم اسپورٹ کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کو کیش ٹرانسفر کے تحت اب تک 89 ارب روپے ستمبر 2023 کے اخر تک منتقل کیے گئے تھے جو کہ 87.5 ارب روپے کے طے شدہ ہدف سے قدرے زیادہ ہیں۔ گیر مشروط اور مشروط کیش ٹرانسفر حدود کے اندر رہا۔