بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آڈیو لیکس کیس: ’ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے وہ آڈیو لیک کے سورس کا پتا نہیں لگاسکتی’

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آڈیو لیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے ہیں کہ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے کہ آڈیو لیک کےسورس کاپتہ نہیں لگاسکتی۔

اسلام آبادہائی کورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے بیٹے نجم الثاقب اور سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیولیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے وزیراعظم آفس کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سےآڈیو ٹیپ کی کسی ایجنسی کواجازت نہیں، عدالتی احکامات کےبعدایف آئی اے ٹیلی کام کمپنیوں کو لکھ رہا ہے، سوشل میڈیاپلیٹ فارمزسےرپورٹ لیناہوگی تب ہی تحقیقات آگےبڑھ سکتی ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئی ایس آئی کہہ رہی ہے کہ آڈیو لیک کے سورس کاپتا نہیں لگاسکتی، اسلام آباد ہائی کور ٹ نے کہا کہ آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے کیوں ریورٹ فائل کی؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کو وزیراعظم آفس کے ذریعے ریورٹ فائل کرنی چاہیے تھی، وکیل پیمرا نے کہا کہ پرائیویٹ آڈیو لیک کو ٹی وی چینل نشر نہیں کرسکتا، عدالت نے استفسار کیا کہ پیمرا اس حوالے سے کیا ایکشن لے رہا ہے؟

پسِ منظر
واضح رہے کہ 29 اپریل کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔

اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

پھر نجم ثاقب ان کو ثاقب نثار سے ملنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس بابا کو ملنے آجانا شکریہ ادا کرنے کے لیے، اور کچھ نہیں جس پر ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، کیسی بات کر رہے ہیں۔

نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ 11 بجے تک واپس آجائیں گے، ان کو جھپی ڈالنے آجانا بس، انہوں نے بہت محنت کی ہے، بہت محنت کی ہے۔

اس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ اچھا میں سوچ رہا تھا کہ پہلے انکل کے پاس آؤں یا شام کو ٹکٹ جمع کراؤں جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ مرضی ہے تیری، لیکن آج کے دن میں مل ضرور لینا بابا سے جس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، سیدھا ہی ان کے پاس آنا ہے۔

اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کے متن کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو سامنے آئی ہے، مبینہ آڈیو کے معاملے کی فرانزک تحقیقات کرائی جائیں، نجم ثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

اس تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی، کمیٹی میں شامل دیگر ارکان میں شاہدہ اختر علی، محمد ابوبکر، چوہدری محمد برجیس طاہر، شیخ روحیل اصغر، سید حسین طارق، ناز بلوچ، خالد حسین مگسی، وجیہہ قمر اور ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی تحقیقات اور انکوائری کے سلسلے میں کسی بھی تحقیقاتی ادارے کی مدد لے سکے گی اور اپنی جامع تحقیقات کرکے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

گزشتہ روز 30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی۔

درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا۔