اسلام آباد(ممتازنیوز)نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ مظاہرین پچھلے 23 دن سے اسلام آباد پریس کلب کے باہر بیٹھے تھے، اگر ان پر تشدد کرنا مقصود ہوتا تو اتنے دن انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی،بلوچستان سے کچھ مظاہرین 26 نمبر چونگی کے قریب پہنچے تو انہیں وہاں روکا گیا اور کہا گیا آپ کسی دوسری جگہ کا انتخاب کریں، مظاہرین کی وجہ سے کئی گھنٹے تک سڑک بلاک رہی، اسلام آباد پریس کلب سے جو لوگ چلے تھے ان میں کچھ نقاب پوش بھی شامل ہوئے، مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا گیا،نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے مظاہرین میں سے کچھ لوگوں کی گرفتاریاں ہوئیں، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اس معاملہ پر مجھ سمیت فواد حسن فواد اور جمال شاہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی، کمیٹی نے آج خواتین اور بچوں سے ملاقات کی، خواتین اور بچوں کو فوری طور پر رہا کیا گیا، مرد مظاہرین میں سے بھی کافی لوگ رہا ہو چکے ہیں، مظاہرین کے دیرینہ مطالبات تھے، وہ آج کے نہیں کافی عرصے سے چل رہے ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ اس مسئلہ کو حل کریں، خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر نہیں چھوڑ سکتے، انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، خواتین اور بچوں کو محفوظ طریقے سے واپس پہنچانا ہماری ذمہ داری ہےامیدواروں سے کس نے کاغذات چھینے، اس بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ امیدواروں سے کاغذات چھینے جانے پر حکومت کو تشویش ہے، تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں، نگران حکومت کسی ایک جماعت کو ترجیح نہیں دے گی، ہمارا کوئی پسندیدہ امیدوار یا جماعت نہیں، کسی جماعت کے سفیر نہیں، ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور اے پی پی پر تمام جماعتوں کو یکساں کوریج فراہم کی جا رہی ہے، 8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوں گے، افغان حکومت کے حوالے سے ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں، ملکی معیشت کے حوالے سے مثبت کام کئے،نگران حکومت آنے پر کہا جاتا تھا کہ ڈالر 500 روپے تک چلا جائے گا، ہمیں ملک جس حالت میں ملا، اس سے بہتر حالت میں دے کر جائیں گے۔
ہمیں ملک جس حالت میں ملااس سے بہتر حالت میں دے کر جائیں گے،مرتضیٰ سولنگی








